پٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعدوزیرخزانہ اسدعمرکی برطرفی ،بڑااقدام اٹھالیاگیا

لاہور(ویب ڈیسک )وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کے استعفے کیلئے قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی گئی،قراردادمسلم لیگ ن کی رکن حناپرویزبٹ نے جمع کرائی ۔قراردادکے متن میں کہا گیا ہے کہ پٹرول کی فی لیٹرقیمت میں 6 روپے اضافہ قابل مذمت ہے،حکومت نے ملک کوتباہی کے دہانے پرکھڑاکر دیا، بڑھتی مہنگائی کے ذمہ داروزیرخزانہ اسدعمرہیں،قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وفاقی وزیرخزانہ اسدعمر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے عوام پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بم گرا دیا ہے،

پٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 6روپے بڑھا دی ہے، تیل کی نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12بجے کے بعد ہوگا، نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اوگرا نے وزارت پٹرولیم ڈویژن کی ہدایت کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کرکے مہنگائی کے سیلاب کو دعوت دی گئی ہے۔ اوگرا کی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے نوٹیفکیشن کے مطابقپٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 6روپے جبکہ لائٹ اسپیڈ ڈیزل اور مٹی کا تیل کی قیمت میں 3، 3روپے اضافہ کردیا گیا ہے۔

پٹرول کی قیمت میں 6 روپے اضافے کے بعد نئی قیمت 98روپے 89پیسے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی 6 روپے اضافے کے بعد نئی قیمت117 روپے 43 پیسے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 3 روپے اضافہ کے بعد 80 روپے 54 پیسے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی نئی قیمت 3 روپے اضافے کے بعد 89 روپے 31پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔واضح رہے اوگرا کی جانب سے یکم اپریل سے پیٹرول کی قیمت میں 11 روپے 92 پیسے اضافے کی سفارش کی گئی تھی۔ اوگرا نے وزارت پٹرولیم کو بھجوائی تھی۔ سمری میں ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 17 پیسے فی لٹر اضافے کی تجویزدی گئی تھی۔ اوگرا کی جانب سے مٹی کے تیل کی قیمت میں 6 روپے 65 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت بھی 6 روپے 50 پیسے بڑھانے کی سفارش کی گئی تھی۔