جنگ کا خدشہ ؟؟؟ بھارت میں ایمرجنسی کے نفاذ کی خبر ۔۔کیا ہونیوالا ہے ،اچانک بڑی خبر آگئی

بھارت (نیو زڈیسک) پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت میں ایمرجنسی نافذ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت میں عام انتخابات میں کامیابی کے لیے مودی اور ان کی جماعت سر توڑ کوششیں کر رہی ہے اور ایسے میں نریندر مودی بھارت میں پاکستان مخالف تحاریک کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ عوام کی پذیرائی حاصل کر کے اپنے ووٹ بینک کو مزید بڑھایا جا سکے، ایک طرف جہاں بھارت کی کثیر عوام نریندر مودی کی حمایت کرتی نظر آتی ہے وہیں دوسری جانب پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کے بھونڈے دعوے اور جنگی محاذ پر بھارت کو ہونے والی شکست نے بھی عوام کو نریندرمودی کے خلاف کر دیا ہے۔جس کے بعد مودی کی عام انتخابات میں کامیابی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

اس حوالے سے امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے اندرونی حلقے اس بات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کہ موجودہ سیاسی حالات دن بدن نریندر مودی کی دوبارہ کامیابی کے لیے خراب ہوتے جا رہے ہیں ۔اگر کشمیر یا بھارت میں کوئی حادثہ رونما ہو گیا تو اس کو بنیاد بنا کر نریندر مودی ایمرجنسی ڈیکلیئر کر سکتے ہیں اور الیکشن کے التوا کا اعلان کر کے وہ اپوزیشن جماعتوں کو سرپرائز دے سکتے ہیں۔اس اہم ایشو پر قانونی ماہرین کی بھی رائے لی جا رہی ہے ۔ تاجیندر نیجر کا کہنا ہے کہ بھارت کے اندر اور عالمی سطح پر اسوقت مودی کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق غیر ملکی میڈیا نے تو بھارتی وزیراعظم کو جھوٹا قرار دے دیا ہے کہ پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کے دوران تین سو دہشتگردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی سوائے بے بنیاد پروپیگنڈا کے کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ بھارتی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ہمارا چوکیدار چور ہے کا سلوگن ملک بھر میں کافی پاپولر ہو چکا ہے ۔دوسری جانب انتہا پسند جماعت آر ایس ایس ہر صورت میں 2019ء کا الیکشن جیتنا چاہتی ہے ۔

ایک رپورٹ کے مطابق اگر مودی نے انتخابات میں شکست کے ڈر سے ایمرجنسی کا نفاذ کیا تو کانگریس و دیگر اپوزیشن جماعتیں اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکائیں گی۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ نریندرمودی کی سرکاری رہائشگاہ پر ہونے والے ایک اہم اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ اگر سپریم کورٹ نے ایمرجنسی کے حکم کو معطل کر دیا تو پھر حکومت کے پاس پلان بی کیا ہو گا ۔