سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دورہ پاکستان مکمل کر کے ملائیشیاء کیلئے روانہ ہوگئے ، روانگی کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے خود معزز مہمان کی گاڑی چلا کر محبت و خلوص کی نئی تاریخ رقم کردی

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دورہ پاکستان مکمل کر کے ملائیشیاء کیلئے روانہ ہو گئے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آمد پر استقبال کی طرح رخصت پر بھی معزز مہمان ولی عہد محمد بن سلمان گاڑی خود چلائی اور انہیں نور خان ایئر بیس لے کر گئے جہاں محمد بن سلمان نے عمران خان سے مصافحہ کیا اور جہاز میں سوار ہو گئے ۔ ایوان صدر میں معزز مہمان کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا جس دوران صدر مملکت عارف علوی نے انھیں پاکستان کے سب سے اعلیٰ اعزاز نشان پاکستان سے نوازا جبکہ اس موقع پر ایک پر وقار تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا ۔

ایوان صدر میں ہونے والی تقریب کا آغاز قومی ترانے اور تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کے بعد صدر مملکت نے محمد بن سلمان کو نشان پاکستان سے نوازا اور تقریب آگے بڑھی ۔ تقریب میں محمد بن سلمان نے مختصر خطاب بھی کیا ۔ ظہرانے کے بعد ایوان صدر میں پاکستان کے بینڈ نے محمد بن سلمان کو عربی اور پاکستانی دھنیں بھی بجا کر سنائیں اور اس موقع پر ولی عہد بہت خوشگوار موڈ میں نظر آ ئے ۔ ایوان صدر سے روانہ ہوتے ہوئے ولی عہد نے کابینہ کے تمام اراکین سے مصافحہ بھی کیا ۔

ولی عہد محمد بن سلمان گزشتہ شب اسلام آباد پہنچے اور ان کے طیارے کو پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی پاک فضائیہ کے طیاروں نے اپنے حصار میں لیا اور فضا میں بھی سیلیوٹ پیش کیا ۔ محمد بن سلمان کی آمد پر 21 توپوں کی سلامی دی گئی اور انہیں وزیراعظم عمران خان خود گاڑی چلا کر وزیراعظم ہاﺅس لے کر آئے جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور پاک فضائیہ کے طیاروں نے انہیں سلامی بھی پیش کی ۔ وزیراعظم ہاﺅس میں عمران خان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جس دوران اہم ترین امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کئی معاہدوں پر دستخط کیے گئے اور سعودی ولی عہد نے پاکستان میں بیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا ۔ جس کے بعد معزز مہمان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا جس میں انتہائی خوشگوار لمحات دیکھنے میں آئے ۔ وزیراعظم ہاوس میں تقریب کے دوران عمران خا ن نے ولی عہد سے سعودی عرب کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کیلئے کردار ادا کرنے کی درخواست کی جسے محمد بن سلمان نے فوری قبول کرتے ہوئے 2107 قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا اور محبت کی نئی تاریخ رقم کر دی ۔