ماں باپ سے بغاوت کر کے شادی کرنے والی لڑکی کی عبرت ناک داستان

میں نے فیصلہ کر لیا تھا مجھے زیاد ہی سے شادی کرنی تھی میں نے اپنی امی کو اس بارے میں بتا دیا تھا امی کا کہنا تھا کہ ابو راضی نہیں ہیں مگر میں بالغ لڑکی تھی اپنی زندگی کے فیصلے کا اختیار مجھے میرے رب نےبھی دیا تھا میں نے ان سے کہہ دیا کہ اگر وہ خوشی سے شادی کی اجازت دے دیں تو ٹھیک ہے ورنہ میں زیاد کے ساتھ کورٹ میرج کر لوں گی

میں ایک اعلی تعلیم یافتہ لڑکی تھی میں اور زياد مل کر نوکری کر کے گھر کے اخراجات پورے کر سکتے تھے جب امی ابو کسی صورت راضي نہیں ہوۓ تو میں نے اور زياد نے کورٹ میرج کر لی اس دن ہم بہت خوش تھے زیاد کا تعلق ایک سرحدی صوبے سے تھا اگرچہ اس کی نوکری بہت شاندار نہ تھی مگر اس کی شخصیت بہت خوبصورت تھی مجھے فخر تھا کہ میں اور زياد جب ایک ساتھ کہیں نکلتے تو لوگ ہماری شاندار جوڑي کو مڑ مڑ کر ضرور دیکھتے تھے زیاد کے گھر والے گاؤں میں ہوتے تھے میں نے اور اس نےمل کر ایک فلیٹ کراۓ پر لے لیا تھا میں ن اپن ماں باپ کا گھر چھوڑ دیا تھا وہ دن ہماری زندگی کے حسین ترین دن تھےمجھے کسی بھی قسم کی ندامت نہ تھی کہ میں نے یہ گھر اپنے ماں باپ کو ناراض کر کے ان کی عزت کی قیمت پر بنایا ہے میں نے زياد کو پانےکے لیۓ خود پر میکے کا ہر دروازہ بند کر دیا تھا زياد نے ابھی اپنے ماں باپ کو شادی کے بارے میں نہیں بتایا تھا اس کا کہنا تھا کہ مناسب وقت دیکھ کر وہ ان کو بتا دے گامیں نے نوکری جاری رکھی تھی صبح اٹھ کر ہم دونوں اپنے اپنے آفس چلے جاتے تھے اور شام یں واپس آکر ایک دوسرے

کے ساتھ ہوتے زندگی اتنی خوبصورت کبھی نہ تھی وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں تبدیل ہونے لگیں مجھے اب زياد کی بہت ساری ایسی عادتوں کا پتہ چلنے لگا جن سے محبت کے نشے میں میں لاعلم تھی زیاد ہر مہینے اپنی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ اپنے ماں باپ کو بھیج دیتا اور گھر کے اخراجات کا سارا بار میرے اوپر رہتا اس کے ساتھ ساتھ عورت ہونے کی حیثیت سے گھر کے سارے کاموں کی ذمہ داری بھی مجھ پر تھی سرحدی صوبے کا مرد ہونےکی حیثیت سے زیاد کسی کام کو بھی ہاتھ نہ لگاتااس کے ساتھ ساتھ زیاد کی شک کی عادت نے مجھے بہت تنگ کر رکھا تھا شادی سے پہلے یہ شک مجھے اس کی محبت کا جنون لگا کرتا تھا مگر اب اس کا یہ شک ہمارے بیچ دڑاڑیں ڈالنے کا سبب بننے لگا تھا وہ غصے کا بہت تیز تھا گالم گلوچ اور عورت پر ہاتھ اٹھانا اس کے لیۓ کوئي بڑی بات نہ تھی مگر چزنکہ میں واپسی کے سارے دروازے بند کر بیٹھی تھی اس وجہ سے میں اس کی مار کے بعد بھی اسی کے ساتھ رہنے اور اس کو برداشت کرنے پر مجبور تھی شادی کے بعد جیسے جیسے عشق و محبت کا بھوت میرے سر پر سے اترتا گیا زندگی کی ہولناکیاں مجھے سمجھ آنے لگی تھیںاسی دوران

جب پہلی بار میں امید سے ہوئي تو میرے شوہر نے سختی سے مجھے کہا کہ وہ ابھی ایک بچے کے اخراجات اٹھانےکے قابل نہیں ہے اس لیے مجھے ابارشن کروا دینا چاہیۓ میرے لیۓ زیاد کا یہ روپ بہت انوکھا تھا میں نے اس کو بہت واسطے دیۓ کہ یہ ہماری محبت کی نشانی ہے میری کوکھ کو مت اجاڑومگر اس نے میری ایک نہ سنی اور مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جا کر میرا بچہ ضائع کروا دیا اس رات میں بہت روئی مگر ایک ہفتے بعد پھر سے نوکری پر جانا شروع کر دیا انہی دنوں زیاد نے مجھے بتایا کہ اسے ضروری کام سے گاؤں جانا ہے اس لیۓ مجھے کچھ دن تنہا رہنا پڑے گاپندرہ دن زیاد گاؤں میں گزارنے کے بعد جب زیاد واپس آیا تو اس کے تیور بہت ہی بدلے ہوۓ تھے وہ بات بے بات مجھے روئی کی طرح دھنک کر رکھ دیتا ہمارے بیچ کی محبت پتہ نہیں کہاں جا کے سو گئی اس کو میری دکھ میری تکلیف نظر نہ آتی ابارشن کے بعد میری طبیعت بھ گری گری رہنے لگی تھی میرے پاس میری ماں بھی نہ تھی جو ایسی حالت میں بیٹیوں کا خیال رکھتی ہےاس دن جب زیاد آفس کے لیۓ تیار ہو رہا تھا اور اس کے موبائل کی گھنٹی بجی تو میں نے فون اٹھا لیا اس کے گاؤں سے اس

کے بھائی کا فون تھا جس نے میری آواز سنے بغیر ہی زیاد کو یہ خوشخبری سنائي کہ وہ بیٹے کا باپ بن گیا ہے اس وقت مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ زیاد پہلے سے شادی شدہ ہےمیں نے اس بارے میں جب زیاد سے پوچھنے کی کوشش کی تو اس کے جواب نے حیران کر دیا کہ کیا ہوا اگر میں پہلے سے شادی شدہ ہوں مرد چار شادیاں کر سکتا ہے جب میں نے اس سے پوچھا کہ میرا بچہ تم افورڈ نہیں کرسکتے اور گاؤں والی بیوی کا بچہ افورڈ کر سکتے ہو تو اس نے کہا کہ جو لڑکی اپنے ماں باپ کو چھوڑ سکتی ہے اس کے بطن سے پیدا ہونے والی اولاد بھی ایسی ہی ہو گی اس لیۓ وہ نہیں چاہتا کہ میری کوئي اولاد ہواس پل مجھے اپنی وفاؤں اپنی محبت بہت گھٹیا لگی میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب سمجھوتے کا ہر راستہ بند ہو گیا ہے میں ن زياد سےشادی اپنی ساری کشتیاں جلا کر کی تھی اس لیۓ میرے پاس واپسی کا راستہ نہ تھا مگر میرا جنوں ابھی بھی ختم نہ ہوا تھا میں زیاد کو بتا دینا چاہتی تھی کہ میں کچھ بھی کر سکتی ہوںمیں نے اس رات زیاد کو نیند کی گولیاں پیس کر چاۓ میں پلا دی تھیں اور اس کے بعد میں نے چھری لے کر زیاد کے سینے پر اتنے وار کیۓ جتنے اس ن مجھے زخم دیۓ

تھے زیاد کو مارنےکے بعد پہلے تو میں نے اپنے ارمانوں کی سیج پر جی بھر کر آنسو بہاۓ اس کے بعد خود کو ایک مثال بنا کر قانون کے سامنے پیش کر دیا تاکہ مجھ جیسی لڑکیاں اپنی تعلیم اور پیسےکے زعم میں کوغی بھی فیصلہ کرتے ہوۓ سو بار سوچ لیں