چیف جسٹس نے وزیر خزانہ اسد عمر کو سپریم کورٹ میں طلب کرلیا ، لگتا ہے وفاقی حکومت ڈیم بنانے میں سنجیدہ نہیں ہے ، چیف جسٹس ثاقب نثار کے سخت ریمارکس

سپریم کورٹ آف پاکستان میں نئی گاج ڈیم سے متعلق کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہو گئی ، چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ سماعت کر رہا ہے ، وزیر خزانہ اسد عمر سپریم کورٹ میں پیش ہو گئے ۔ چیف جسٹس نے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا حکومت ڈیم بنانے میں سنجیدہ ہے، اسد عمر نے کہا ہے کہ معاملہ ایکنک میں آنے پرمجھے علم ہوتا ہے ، نئی گاج ڈیم سے متعلق ایکنک میں درخواست کل آئی ، ہم نے معاملہ کابینہ کو بھجوا دیا ۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کی حکومت میں کوآرڈی نیشن نہیں ، اسد عمر نے جواب دیا کہ ہوسکتا ہے جناب ۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حکومت کا مطلب حکومت ، وفاق کا مطلب وفاق ہے ۔

چیف جسٹس نے اسد عمر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ کام نہیں کر سکتے ، ملک کیلئے آپ لوگوں کی محبت کم ہوگئی ، بیوروکریسی کے پاس کام کرنے کا جذبہ اور نیت نہیں ۔ عدالت نے کہا کہ ایکنک اجلاس ہوگیا ، منٹس پر دستخط میں کتنا ٹائم لگتا ہے ؟ ہم حکومت کو ڈکٹیٹ نہیں کرنا چاہتے ، ہم نے بنیادی حقوق سے متعلق کام کیا ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ میں آپ کے کردارکا معترف ہوں ، 25 جنوری کوایکنک اجلاس میں معاملہ زیرغورلائیں گے ، سپریم کورٹ نے کہا کہ ایکنک اجلاس کے فوراً بعد فیصلوں سے آگاہ کریں ، وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ تاریخ میں ڈیم کے حوالے سے آپ کو یاد رکھا جائے گا ۔