وزیرخزانہ اسدعمر23جنوری کوکیادھماکاکرنیوالے ہیں؟پریشان کن خبرآگئی

کراچی (ویب ڈیسک )وزیر خزانہ اسد عمر نے اعلان کیے ہے کہ وفاقی حکومت 23 جنوری کو منی بجٹ پیش کرے گی۔کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجروں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کو ا سٹیچوٹیری ریگولیٹری آرڈرز (ایس آر او) کے اجرا کا اختیار ختم کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسز پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد ہوگی۔اسد عمر نے بتایا کہ وفاقی حکومت فی الحال آئی ایم ایف کے پاس نہیں جارہی بلکہ آئی ایم ایف کے علاوہ دیگر راستے دیکھ رہے ہیں۔

چیمبر آف کامرس کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ میں خود بھی کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسڑی کا ممبر رہا ہوں اور یہ میرا گھر ہے۔انہوں نے کہا کہ 21ویں صدی میں معیشت کا پہیہ نجی شعبہ چلاتا ہے اور اس کے لیے ہم تجارت کو آسان بنانے کی کوششیں کررہے ہیں اور کئی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں کاروبار کرنے میں آسانیوں کی رینکنگ میں 147 سے 136 تک آگئے ہیں اور اسے 100 سے کم میں لے کر جانا چاہتے ہیں۔سرمایہ کاری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ 30 سالوں میں اپنی معیشت کو اصراف پر مبنی بنادیا ہے جس کی وجہ سے ہماری بچت دنیا کی سب سے کم ہوگئی اور پاکستان میں سرمایہ کاری بھی دنیا سے بہت پیچھے رہ گئی ہے جس کی وجہ سے پکستان کا تجارتی خسارہ بھی بڑھ کر خطرناک صورتحال اختیار کرگیا جس کی وجہ سے مشکلات پیدا ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری جو در آمد کی گئی کھپت ہیں اس کو پالیسیز کے ذریعے کنٹرول کریں گے جو 23 تاریخ کے فنانس بل میں بھی آپ کو نظر آئے گا۔انہوں نے بتایا کہ یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ کمزور ترین طبقے کو اس کے لیے مشکلات کم کرے اور ہم نے اپنے فیصلوں میں یہی کرنے کی کوشش کی ہے جس کی جھلک بجلی کی قیمت، گیس کی قیمت یا ٹیکس کے نظام پر کیے گئے فیصلوں میں نظر آئے گی۔