بلاول کی گرفتاری خطرناک کھیل ، اس کیلئے دل گردہ چاہیے، پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی حکومت کو چیلنج کردیا

لاہور (آئی این پی ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی گرفتاری کے لیے دل گردہ چاہیے، ان کی گرفتاری خطرناک کھیل ہوگا،اس سے ملک افراتفری کا شکار ہو گا، بلاول بھٹو کی گرفتاری کے لیے دل اور گردہ چاہیے، سندھ میں گورنر راج لگانا ممکن نہیں، آئین اور قانون میں کوئی گنجائش نہیں، آئین کو چھیڑا گیا تو پاکستان کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوگا۔وفاق کو چھیڑنا خطرناک کھیل ہوگا ، سیاسی جماعتوں کو ایسے ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے،اس کھیل کے اثرات کے ذمہ دار یہلوگ ہوں گے، ایسے غیر قانونی اقدام سے یہ آئین اور قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے، عمران خان اپنی ناکامی چھپانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں سے بیلنس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ،

عمران خان نے سیاستدانوں کی گرفتاری کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ لاہور میں سینئر رہنما پیپلزپارٹی خورشید شاہ نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان چاہتے ہیں ان سے وعدوں کے بارے میں کوئی سوال نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان عوامی مینڈیٹ سے اقتدار میں نہیں آئے، انہیں جیسے لایا گیا وہ سب جانتے ہیں اور اب ان سے وہ کام کرائے جا رہے ہیں جو کوئی سیاستدان نہ کرتا۔خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان نے سیاستدانوں کی گرفتاری کے علاوہ کچھ نہیں کیا، اس موقع پر ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا حکومت بلاول بھٹو زرداری کو گرفتار کرسکتی ہے؟اس کے جواب میں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ بلاول کو گرفتار کرنا ممکن نہیں لیکن ان سے کچھ بعید بھی نہیں ہے،

ان کا مزید کہنا تھا کہ بلاول کی گرفتاری سے ملک افراتفری کا شکار ہوگا۔خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان ملک میں بحران اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں،وہ اپنی ناکامی چھپانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں سیاسے بیلنس کر رہے ہیں ۔پی پی رہنما نے بتایا کہ ملک میں ون پارٹی سسٹم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سویلین مارشل لا لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے غیرقانونی اقدام سے یہ آئین اور قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔خورشید شاہ نے کہاکہ آئین وفاق کی مضبوطی کی ضمانت ہے،

آئین کو چھیڑا گیا تو پاکستان کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوگا اور اس کھیل کیاثرات کے ذمے داریہ لوگ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی جماعتوں کو ایسے ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔اس طریقہ سیاست سے ایک پارٹی کومضبوط اور دیگر کو کمزور کیا جا رہا ہے، گورنرراج کانفاذ ملک کے لیے بہتر نہیں ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں ان ہاوس تبدیلی کی ضرورت نہیں، مفروضوں پر کیسز بنائے گئے، انہوں نے انکشاف کیا کہ مارشل لا کے ذریعے آئین ختم کرکے گورنر راج لگایا جاسکتا ہے۔