لاہور : جناح ہسپتال کے گرلز ہوسٹل میں لیڈی ڈاکٹر کی ہلاکت : ڈاکٹر عروشہ کے جسم پر ایسی کیا چیز نظر آ گئی کہ والدین نے پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک ) جناح ہسپتال کے گرلز ہوسٹل میں 22 سالہ لیڈی ڈاکٹر پراسرار طور پر ہلاک ، تفصیلات کے مطابق عروشہ نورین جناح ہسپتال کے گائنی وارڈ میں پی جی ڈاکٹر علامہ اقبال میڈیکل کالج میں پوسٹ گریجویشن کی طالبہ تھیں ۔ گزشتہ روز عروشہ نورین اپنے کمرے میں بیہوش پائی گئی ۔ عروشہ نورین کو طبی امداد کے لئے جناح ہسپتال لایا گیا۔ جہاں ڈاکٹرز نے ہلاکت کی تصدیق کر دی ۔ عروشہ نورین کو برینولا لگا ہوا تھا ۔ ذرائع کے مطابق عروشہ نورین کی ہلاکت خودکشی یا پھر غلط انجکشن لگنے سے ہوئی ۔

علاوہ ازیں وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے جناح ہسپتال کے ہاسٹل میں لیڈی ڈاکٹر کی پراسرار ہلاکت کے واقعہ کا نوٹس لے لیا ۔ ایم ایس جناح ہسپتال کو واقعہ کی تحقیقات کی ہدایت کی ترجمان محکمہ صحت کے مطابق لیڈی ڈاکٹر کے والدین پوسٹ مارٹم بھی نہیں کرانا چاہتے ۔ پولیس پراسرار ہلاکت کے واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے ۔ ڈاکٹر عروشہ نورین کا تعلق گجرات سے تھا ۔ پولیس نے نعش پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خانے جمع کرا کر مختلف پہلووں پر تفتیش شروع کر دی۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے جناح ہسپتال کے گرلز ہاسٹل سے لیڈی ڈاکٹر کی لاش برآمدہوئی ۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹر عروشہ نورین اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پائی گئیں۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق لیڈی ڈاکٹر نے بظاہر خو دکشی کی، تاہم تفتیش کے بعد ہی حقائق سامنے آئیں گے۔ جاں بحق خاتون کے اہلخانہ گجرات سے لاہور پہنچ گئے، والدین نے پوسٹ مارٹم کرانے سے انکارکر دیا ۔وزیرصحت پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لے لیا اور ایم ایس جناح ہسپتال کوتحقیقات کی ہدایت کردی ہے۔ پولیس لیڈی ڈاکٹر کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کر رہی ہے۔