پاکستانی طلبا و طالبات تیزی سے ’آئس‘کے نشے میں ڈوبنے لگے نوجوان لڑکے لڑکیاں یہ نشہ استعمال کر کے کیا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ؟پہلی بار حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں، والدین ضرور پڑھیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے معروف تعلیمی اداروں میں نشے کے عادی طلبا وطالبات کی تعداد میں روز بروز اضافہ، طلبا ’’آئس‘‘کے نشے میں زیادہ کیوں مبتلا ہو رہے ہیں، انہیں کیسے دھوکے سے اس موذی نشے کا عادی بنایاجا رہا ہے، حیران کن حقائق پہلی بار سامنے آگئے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے معروف تعلیمی اداروں میں نشے کے عادی طلبا و طالبات میں حیران کنحد تک روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور اس حوالے سے اسلام آباد، لاہور ، کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے تعلیمی ادارے سرفہرست ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے تعلیمی اداروں میں اسحوالے سے پولیس نے کئی کامیاب آپریشن کئے تاہم کچھ کالی بھیڑوں کی وجہ سے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے ہیں۔

آئس نشہ کیا ہے اور منشیات فروش کیسے نوجوان نسل کو اس کی لت میں مبتلا کر رہے ہیں اس حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے۔ ’’آئس ‘‘دراصل ’کرسٹل میتھ‘کا نام ہے جسے عرف عام میں آئس کہا جاتا ہے۔ منشیات فروش طلبا کو یہ جھانسہ دے کر اس نشے کا عادی بناتے ہیں کہ اس سے ان کی ذہنی صلاحیت میں اضافہ اور یاد داشت اچھی ہو گی۔ اس نشے کے عادی افراد 10 سے 12 گھنٹے حیرت انگیز حد تک چُست رہتے ہیں اور جاگتے رہتے ہیں ، اسی وجہ سے طلبا کو کئی جسمانی اور نفسیاتی مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔آئس ایسا نشہ ہے کہ اگر اس کا عادی شخص اس سے چھٹکارے کی خواہش کرے تب بھی وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ آئس کا نشہ تیزی سے دماغ اور جسم کو اپنا عادی بنا لیتا ہے ۔

آئس کے علاوہ امیر طبقوں میں آکسیجن شاٹس اور پارٹی ڈرگز کا بھی رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور اس کا بھی شکار زیادہ تر امیر اور اچھے گھرانوں کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہیں۔ منشیات فروش مافیا تیزی سے پاکستان میں اپنے پنجے گاڑھتا جا رہا ہے اور اب شراب،کوکین، گردہ اور چرس کی تعلیمی اداروں کے اندر سپلائی اور استعمال کو روکنے کے اقدامات کے بعد نوجوان نسل کو برباد کرنے والے مافیا نےچاکلیٹ ،چیونگم، لالی پاپ،انرجی ڈرنکس اور خشک دودھ کی صورت میں نئے نشہ کو تعلیمی اداروں میں متعارف کروایا ہے۔

چیونگم اور چاکلیٹ میں ایسے کیمیکل موجود ہیں جس کے استعمال سے نشہ تو ہوتا ہے مگر دماغ سُن ہوجاتا ہے۔ ایک رپورٹ کےمطابق یہ نشہ آور چیزیں تھائی لینڈ، بھارت اور سنگاپور سے اسمگل ہوکر پاکستان آ رہی ہیں۔ 3500 سے 4000 روپے میں ایک گرام منشیات خرید کر 20 سے 25 افراد اپنے نشے کی لت پوری کر لیتے ہیں۔ اس حوالے سے طبی ماہرین اور منشیات کے عادی افراد کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بچوں ان موذی نشوں سے بچانے کیلئے والدین کو آگے آنا پڑے گا اور اپنے بچوں پر کڑی اور گہری نظر رکھنا ہو گی کہ وہ کس کیساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اور ان کا میل جول کس قسم کے لوگوں کے ساتھ ہے اور ان کی روٹین کیا ہے۔ اس طرح والدین بروقت اپنے بچوں کو اس موذی نشے کا عادی ہونے سے بچا سکتے ہیں۔