دجال کی آمد،اسرائیل میں سرخ بچھڑے کی پیدائش اورمسجداقصیٰ کی شہادت۔۔۔یہودیوں کی ہیکل سلیمانی کی تعمیرشروع کردی

قرب قیامت کی نشانیوں کے بارے میں کہاجاتاہے کہ یہ نشانیاں اس طرح ظاہرہوں گی جس طرح تسبیح کے موتی ،یعنی تسبیح جب ٹوٹ جاتی ہے تودھاگے سے اس کے موتی ایک کے بعدایک تیزی سے نکلتے ہیں اوریہ نشانیاں اسی تیزی سے ظاہرہورہی ہے قرب قیامت کی نشانیو ں میں سے ایک اسرائیل میں سرخ بچھڑے (حیفہ )کی پیدائش تھی جوکہ پوری ہوچکی

ہے اس کے بعددیوارگریہ سے سانپ کانکلنا۔ان نشانیوں کاظاہرہوناہی تھاکہ یہودی دجال کی آمدکی تیاریاں شروع کرنے لگے ۔یہودی دجال کی آمدسے قبل ہیکل سلیمانی کی تعمیراورتابوت سکینہ کوہرصورت میں حاصل کرناچاہتے ہیں اوراپنے اس مقصدکی تکمیل کے لیے انہوں نے کام شروع کردیا۔10دسمبر2018کوانہوں نے تھرڈٹیمپل یعنی ہیکل سلیمانی کی تعمیرکاآغاز کردیااس موقع پرہونے والی تقریب کودنیابھرمیں دکھایاگیااوراس حوالے سے ایک سکہ بھی جاری کیاگیاجس پرامریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی تصویرہے ۔افسوس کی بات یہ ہے

کہ اس موقع پرامت مسلمہ خاموش رہی اورکسی نے اس کی مذمت تک گوارہ نہ کی ۔اس موقع پرایک یہودی مذہبی رہنما نے کہاکہ یہ ٹیمپل نہ صرف ہمارے لیے بلکہ تمام دنیاکے لیے ہوگاعیسائی بھی اس کی تعمیرکے لیے فنڈ دے رہے ہیں اوریہاں تک کہ کچھ مسلمان بھی چاہتے ہیں کہ اس کی تعمیرہو۔مسجداقصیٰ کوشہیدکرنے کے لے یہودی عرصہ دراز سے اس کی بنیادوں کے گردسرنگیںکھودکراس کوکمزورکرچکے ہیں اوراب ہیکل کی تعمیرشروع ہونے سے وہ اس کوشہیدکردیں گے جبکہ ان کی نظرگنبدالصخریٰ پربھی ہے

جس پرایک اندازے کے مطابق 48ٹن سونالگاہواہے۔جومسلما ن ہیکل سلیمانی اورتابوت سکینہ کے بارے میں نہیں جانتے ہیکلِ سلیمانی اور تابوت سکینہ کا ذکر مذہبی تاریخ کے حوالے سے بکثر ت سننے کو ملتا ہے لیکن حقائق کا علم بہت کم پایا جاتا ہے۔ اگرچہ مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں میں اس کے متعلق مختلف آراءبھی بیان کی جاتی ہیں تا ہم اہم نکات و واقعات پر تاریخ دانوں کا اتفاق پایا جاتا ہے۔جب بنی اسرائیل فرعون سے نجات پا کر فلسطین چلے آئے تو انہوں نے عرب سرزمین پر بسیرا کرلیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کی رہنمائی حضرت طالوت علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے کی۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ حضرتداؤد علیہ السلام نے حضرت طالوت علیہ السلام کی صاحبزادی سے شادی کی۔تابوت سکینہ کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ یہ حضرت آدم علیہ السلام کو دیا گیا اور ان سے حضرت داؤد علیہ السلام تک پہنچا۔ کہا جاتا ہے کہ جب یہ صندوق حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس تھا تو اس میں لوح قرآنی اور موسیٰ علیہ السلام کا عصا بھی تھا، اور تورات، کوہ سینا پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی

گئی تختیاں، اور وہ برتن بھی تھا جس میں آسمانوں سے من و سلویٰ اترا کرتا تھا۔ اسرائیلی تابوت سکینہ کو اپنے قبلہ کے طور پر بھی استعمال کرتے تھے۔تاریخ کی کتابوں کے مطابق حضرت داؤد علیہ السلام نے تابوت سکینہ کے تحفظ کیلئے ایک مضبوط عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ عمارت حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں مکمل ہوئی اور اسے ہیکلِ سلیمانی کا نام دیا گیا۔ تابوت سکینہ اس عمارت میں اہلبابل کے حملے تک محفوظ رہا۔ بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ اہل بابل اسے اپنے ساتھ لے گئے جبکہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اسے آسمانوں پر اٹھالیا گیا۔اس واقعے کے بعد بنی اسرائیل نے ہیکل سلیمانی کو دوبارہ تعمیر کیا۔ بعد ازاں رومیوں نے حملہ کیا اور اسے ایک بار پھر نشانہ بنایا۔ انہوں نے اس کی جگہ ایک کلیسا کی تعمیر کی۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سرزمین کو فتح کیا تو رومیوں کے کلیسا سے کچھ فاصلے پر دعا فرمائی، جہاں مسجد اقصیٰ کی تعمیر کی گئی۔یہودی دعویٰ کرتے ہیں کہ جس جگہ مسجد اقصیٰ واقع ہے وہاں ان کا معبد تھا۔ مسلمان اس جگہ کو اپنے لئے مقدس جانتے ہیں، مگر یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ مسجد کو شہید کرکے اس

کی جگہ ہیکلِ سلیمانی کی دوبارہ تعمیر کی جائے گی۔ وہ ہیکل کی ایک پس ماندہ دیوار میں واقع دروازے کے متعلق بھی سمجھتے ہیں کہ یہ قیامت سے قبل ان کے بادشاہ کی واپسی کا راستہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں