اسد عمر کو تبدیل کیے جانے کا امکان نیا وزیر خزانہ کون ہوگا؟ نام سامنے آگیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) وزیر خزانہ اسد عمر کو تبدیل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے وزیر خزانہ ا سد عمر کو مایوس کن کاگردگی پر عہدے سے ہٹائے جانے کا امکان ہے۔جب کہ حکومت نے اس حوالے نئے ناموں پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔وزیر خزانہ کے لیے نئے ناموں میں شماد اختر کا نام سر فہرست ہے جب کہ اس کے علاوہ بھی دو ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔شمشاد اختر نگران وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک بھی رہ چکی ہیں۔دو روز قبل صحافیوں کو دئیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ آنے والے دنوں میں کابینہ میں بڑی تبدیلی کی جا سکتی ہے اور ناقص کارگردگی دکھانے والے وزراء کو فارغ کیا جا سکتا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کے بعد ڈالر بہت مہنگا ہو گیا جس کے بعد اسد عمر کی کارگردگی پر سوال اٹھنے لگ گیا۔ تاہم اسد عمر کے بارے میں عمران خان پہلے ہی کہتے تھے کہ میری حکومت میں اسد عمر وزیر خزانہ ہوں گے۔اس کے بعد دو روز سے اسد عمر کے استعفی کی خبریں بھی گرد کرتی رہیں۔واضح رہے وزیراعظم ہاؤس نے وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر کے استعفیٰ کی تردید کی تھی، وفاقی وزیرخزانہ اسدعمر کے استعفیٰ دینے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرخزانہ اسد عمر نے استعفیٰ نہیں دیا۔اسی طرح وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے ۔

کہ وزیرخزانہ اسد عمر اور مشیر اقتصادی امورعبدالرزاق داؤد کے درمیان جھگڑے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ صحت مند بحث پارٹی کلچر کا حصہ ہے ۔ایسی بحث ہوتی رہتی ہے۔ وزیرخزانہ نے استعفیٰ دیا ہے اور نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ کے استعفیٰ کی افواہ بعض عناصر اپنے مذموم مقاصد کیلئے پھیلا رہے ہیں۔جب کہ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء جہانگیرترین نے وفاقی وزیرخزانہ اسد عمرکے ساتھ اختلافات کی خبروں کو من گھڑت قرار دیا تھ۔ انہوں نے کہا کہ اسد عمر کے ساتھ کسی معاملے پر کوئی اختلاف نہیں ہوا ہے،اختلافات کی خبریں من گھڑت ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں