تقسیم ہند کے وقت پاکستان آجانے والی 2مسلمان بہنیں 70سال بعد سکھ بھائی سے مل گئیں ۔۔ بھائی سکھ اور بہنیں مسلمان کیسے ہوئیں ؟ آبدیدہ کر دینے والی رپورٹ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)تقسیم ہند کے وقت پاکستان آ جانے والی دو بہنیں 70 سال بعد سرحد پار رہ جانے والے بھائی سے مل گئیں۔گردوارا جنم استھان میں پاکستان آ جانے والی 2 مسلمان بہنیں بھارت سے آئے سکھ بھائی سے لپٹ گئیں۔تفصیلات کے مطابق تقسیم ہند نے بہت سے خاندانوں کو 2 لخت کر دیا۔بہت سے خاندان سرحد پر لگی باڑ کے بیچ تقسیم ہو کر رہ گئے۔ تقسیم کے ہنگام میں بہت سے لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر آئے تو اپنے جگر گوشوں کو کہیں کھو بیٹھے۔

بہت سے خاندان ایسے تھے جن کے بڑے تو پاکستان آ گئے مگر کچھ بچے اس شورش میں ہندوستان ہی رہ گئے۔ایسے ہی 3 بہن بھائیوں کے ہجر کی کہانی گردوارا جنم استھان پر اختتام پذیر ہوئی۔گردوارا جنم استھان میں پاکستان آ جانے والی 2 مسلمان بہنیں بھارت سے آئے سکھ بھائی کو مل گئیں۔ 70 سال بعد بہن بھائیوں کا ملاپ ہوا تو ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔70 سال قبل گرداس پور کے پراچہ کا خاندان ایسا بچھڑا کے ماں 2 بہنوں سمیت پاکستان آ گئی تو بھائی کہیں پیچھے رہ گیا۔

لیکن 70 سال بعد بھی پاکستان میں موجود الفت بی بی اور معراج بی بی کی محبت میں سکھ یاتری کے روپ میں پاکستان آئے بھائی کو ڈھونڈ نکالا۔بہنوں کا کہنا تھا کہ ہم بہت چھوٹے تھے جب ہم بچھڑ گئے اور ہم اکثر ماں سے اس خواہش کا اظہار کیا کرتے تھے کہ کاش ہمارا کوئی بھائی ہوتا۔ اس وقت ماں ہم سے کہتی کہ تمہارا بھائی ہے مگر وہ سرحد کے اس پار ہے ہو سکتا ہے انہوں نے مار دیا۔خواتین کا کہنا تھا کہ ہم تڑپتے اور بلکتے تھے اور سوچتے تھے کہ نا جانے جن بہنوں کے بھائی ہوتے ہیں جب وہ بہنوں کو گلے لگاتے ہوں گے تو بہنیں کیسا خوش قسمت محسوس کرتی ہوں گی۔

انہوں نے جذباتی ہوکر کہا کہ آج جب ہم نے اپنا بھائی گلے سے لگایا تو ہمیں محسوس ہوا کہ بھائی کیا ہوتے ہیں۔ اس موقع پر یہ جذباتی منظر دیکھ کر وہاں موجود تمام لوگ ہی اشکبار ہو گئے۔اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان آ جانے والی دونوں بہنیں الفت بی بی اور معراج بی بی مسلمان ہیں جبکہ بھائی سکھ مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔