حکومت نے پاک فوج کے جنرلوں کو بغاوت کی دعوت دینے والے پیر افضل قادری کی قسمت کا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا ہے کہ تحریک لبیک کے پیر افضل قادری نے اپنی تقریر پر معذرت کرلی تھی جو حکومت نے قبول کرلی ۔ خیال رہے کہ آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف احتجاج کے دوران تحریک لبیک کے سرپرست پیر افضل قادری نے پاک فوج کے جنرلوں کو بغاوت کی دعوت دی تھی ۔وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے نجی ٹی وی کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت تحریک لبیک سے معاہدہ ہوا میں اس وقت وزیر اعظم سے رابطے میں تھا۔

، وہ چین میں تھے، ہم اپنی حد تک اپنی کمٹنمنٹ پر قائم ہیں اور اس کو پورا کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور احتجاج کے دوران جس کسی کی بھی دل آزاری ہوئی اس پر تحریک لبیک کی جانب سے معذرت کی گئی۔ کسی پر توہین عدالت کا کیس ہو اور وہ عدالت جا کر معافی مانگے تو بات ختم ہو جاتی ہے، افضل قادری کی تقریر پر سپریم کورٹ کیا کرتی ہے ،۔

یہ ان کا کام ہے۔متنازعہ تقریر پر ہم نے ان کی معذرت قبول کی۔ واضح رہے کہ اس سےقبل یورپی پارلیمنٹ کے صدر انٹونیو ٹیجانی نے وزیراعظم عمران خان کو ٹیلی فون کر کے توہین رسالت کے مقدمے میں بری ہونے والی آسیہ بی بی سمیت بین المذاہب ہم آہنگی کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔انٹونیو ٹیجانی نے وزیراعظم عمران خان کو بتایا کہ یورپی پارلیمنٹ نےآسیہ بی بی کے معاملے پر بحث ملتوی کر دی ہے جب کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک دوسرے کے مذاہب جذبات کے احترام کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم نے بین الثقافتی، بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ڈائیلاگ پر بھی زور دیا۔

صدر یورپی پارلیمنٹ نے کہا کہ حکومت پاکستان سے تعاون جاری رکھا جائے گا۔عمران خان نے صدر یورپی پارلیمنٹ سے کہا کہ حکومت آسیہ بی بی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی ہونے کے ناطے آسیہ بی بی اور اس کے خاندان کو تمام حقوق حاصل ہیں۔وزیراعظم عمران خان نےگستاخانہ خاکوں پر حکومت اور پاکستانی عوام کے سخت تحفظات سے بھی صدر یورپی پارلیمنٹ کو آگاہ کیا۔