آسیہ بی بی کی عدم رہائی اور دھرنا ختم ہو نے کے بعد اس کے شوہر عاشق مسیح نے بھی خاموشی توڑدی

برلن (ویب ڈیسک )سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے الزام سے بری کرتے ہوئے فوری رہاکر نے کا حکم دیا گیا تھا جس پر تحریک لبیک کی جانب سے تین دن دھرنہ دیا گیا تاہم آخر کار دور ز قبل حکومت کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا اور دھرنہ ختم ہو گیا لیکن اب آسیہ بی بی کی رہائی نہ ہونے پر ان کے شوہر عاشق مسیح بھی میدان میں آ گئے ہیں اور حکومت سے بڑا مطالبہ کر دیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق عاشق مسیح نے حکومت کو دھرنہ مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہاہے کہ حکام آسیہ بی بی کی حفاظت کو یقینی بنائیں ۔جمعہ کے روز حکومت نے دھرنہ مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے تین روز سے جاری احتجاج کو ختم کروایا جس میں آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ بھی مان لیا گیا ہے اور سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل دائرکرنے پر بھی اتفاق ہو اہے ۔عاشق مسیح کا کہناتھا کہ عدلیہ پر دباؤ ڈالنا غلط ہے ، حکومت کو کبھی بھی مظاہرین کے دباؤ میں نہیں آنا چاہیے تھا ۔ ان کا کہناتھا کہ عدالت نے حوصلہ مند فیصلہ سنایا ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ یہ حالات ہمارے لیے بہت خطرناک ہیں ، ہمیں کوئی سیکیورٹی نہیں دی گئی ہے اور ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ چھپتے پھر رہے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ حکومت فوری طور پر جیل میں آسیہ بی بی کی سیکیورٹی میں اضافہ کرے کیونکہ ان پر حملہ ہونے کا خدشہ ہے اور یہ حالات آسیہ کیلئے بھی خطرناک ہیں اور مجھے ایسا محسوس ہورہاہے کہ اس کی زندگی کو خطرہ ہے ۔ان کا کہناتھا کہ حکومت فوری طور پر جیل میں آسیہ بی بی کی سیکیورٹی میں اضافہ کرے کیونکہ ان پر حملہ ہونے کا خدشہ ہے اور یہ حالات آسیہ کیلئے بھی خطرناک ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں