مولاناسمیع الحق کو شہیدکرکے ہم نے اپنابدلہ لے لیا،قاتل کھل کرسامنے آگئے ،اہم پیغام دیدیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سیاسی رہنما جان اچکزئی نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت سے متعلق میں ایک نئی اطلاع دینا چاہتا ہوں۔ سوشل میڈیا پر کئی خبریں چل رہی ہیں کہ مولانا سمیع الحق کو مار کر کمانڈر رازق کا بدلہ لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دعوے کرنے والے ٹویٹر اکاؤنٹس وہ اکاؤنٹس ہیں جن کا افغان انٹیلی جنس این ڈی ایس سے تعلق ہے۔اس دعوے کے بعد یہ بات کچھ کچھ ظاہر ہو رہی ہے کہ شاید واقعی مولانا سمیع الحق کی شہادت کے پیچھے این ڈی ایس کا ہی ہاتھ ہے۔

واضح رہے کہ جس کمانڈر رازق کا جان اچکزئی نے تذکرہ کیا یہ وہی کمانڈر رازق ہیں جو قندھار پولیس کے سربراہ تھے، جنرل عبدالرازق 18 اکتوبر بروز جمعرات کو ہونے والے حملے میں ہلاک ہوگئے۔اس حملے میں ان کے علاوہ افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کے صوبائی سربراہ بھی مارے گئے جبکہ امریکی فوج کے کمانڈر بال بال بچ گئے تھے۔سربراہ جنرل عبدالرزاق پاکستان کے خلاف انتہائی سخت موقف رکھنے کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ان کی تین بیویاں اور 13 بچے تھے۔

عبدالرازق پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بھی الزام تھا تاہم افغانی عوام انہیں نہ صرف ان کی زندگی میں بلکہ موت کے بعد بھی’ہیرو’ مانتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر عبدالرازق کی ایسی کئی ویڈیو موجود ہیں جن میں وہ طالبان کی مبینہ حمایت پر پاکستان کے خلاف بیانات دیتے رہتے تھے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر مجھ پر ایک ہزار حملے بھی کیے جائیں تو جب تک زندہ ہوں پنجاب اور پاکستان کا دشمن رہوں گا۔افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل رازق پاکستان اور افغانستان کے مابین متنازع ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے بھی سخت مخالف تھے۔

گذشتہ روز جمیعت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو نامعلوم ملزمان نے چاقوؤں کے وار کر کے شہید کر دیا۔ جس کے بعد اب جان اچکزئی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر مولانا سمیع الحق کی شہادت کو کمانڈر رازق کی ہلاکت کا بدلہ قررا دیا جا رہا ہے تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی مصدقہ اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں