مولاناسمیع الحق کو قتل کرکے عمران خان سے کس بات کا بدلہ لیا گیا، وزیراعظم نے مولاناکیلئے کیا کام کیا تھا، اہم انکشاف

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) گذشتہ روز سربراہ جمعیت علماء اسلام (س)مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔پولیس نے اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی چوہدری غلام حسین کا کہنا ہے کہ مولانا سمیع الحق کا قتل ایک بہت بڑا سانحہ ہے،مولانا سمیع الحق کا بہت سارے حلقوں میں احترام تھا۔دیو بندی مدرسوں میں ان کا بہت بڑا نام تھا اور پچھلی خیبرپختونخوا حکومت میں عمران خان اور سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے مدارس کے لیے ان کو کئی کروڑ روپے دئیے تھے۔تاکہ مدرسوں میں بھی فارمل تعلیم دی جائے۔

جس کے بعد کافی شور بھی مچایا گیا تھا۔مولانا سمیع الحق تحریک انصاف کی حکومت کا ساتھ دے رہے تھے۔مولانا سمیع الحق پر حملہ ایک طرف تو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے جب کہ دوسری طرف عمران خان کو صدمیہ پہنچانے کے لیے مولانا سمیع الحق کو قتل کیا گیا۔دشمنوں کی کوشش تھے کی خیبرپختونخوا میں تحریک انصاد کی حکومت کو نقصان پہنچایا جائے۔چوہدری غلام حسین نے مزید کہا تھا کہ اب مولانا سمیع الحق کی مولانا فضل الرحمنٰ سے بہت دوری تھی۔

تب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا تھا کہ مدارس میں پڑھنے والے 25لاکھ سے زائد بچے ریاستی وسائل پر حق رکھتے ہیں ۔وقت آگیا ہے کہ تعلیمی نظام میں مدارس کے بچوں کو معقول جگہ اور مقام دیا جائے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں حکومتیں امیروں پر وسائل خرچ کر رہی ہیں ۔ غریب عوام اور ان کے بچوں کے بارے میں حکومتیں مجرمانہ طرز عمل کا اظہار کر رہی ہیں ۔انہوں نے حکومت پختونخوا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ پختونخوا حکومت کی جانب سے مدارس کی قومی دھارے میں شمولیت کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات قابل تحسین ہیں۔پختونخوا حکومت ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کے تحت دینی مدارس اور طالبہ پر وسائل صرف کرے۔