’’مولانا خادم رضوی کون ہیں ؟ ‘‘ دھرنے سے قبل آئی ایس آئی نے سپریم کورٹ مولانا کے بارے میں کیا رپورٹ پیش کی تھی ؟ تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آسیہ مسیح کی رہائی کے فیصلے پر ملک بھر میں تین روز تک جلائو گھیرائو اور حکومتی پہیہ جام کردینے والے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ خادم رضوی کی ایک کال پر دوسری بار حکومت اور اس کی مشینری بے بس نظر آئی۔ خادم رضوی بظاہر تو ایک معذور شخص ہیں جو کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کیلئے وہیل چیئر کے سہارے کے محتاج ہیںتاہم ان کی ایک کال پر لاکھوں نوجوان سڑکوں پر نکل آتے ہیں ۔خادم رضوی کے حوالے سے 7مئی2018کو سپریم کورٹ میں پیش کی گئی

آئی ایس آئی کی رپورٹ میں تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ خادم رضوی کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات کئے گئےتھے۔ رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیاتھا کہعلامہ خادم رضوی نوجوانوں کو مذہبی مقاصد کے حصول کیلئے ورغلا کر کوئی بھی کام کروا نے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مندرجات اس وقت میڈیا کی بھی زینت بنے تھے نجی ٹی وی ’’جاگ ‘‘کی رپورٹ میں آئی ایس آئی کی رپورٹ اورعدالت میں سوال و جواب کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق خادم حسین رضوی ایک مغرور اور متکبر شخص ہیں،

جوکہ مالی بدعنوانیوں میں بھی ملوث پائے گئے، وہ مذہب کے نام پر چندے جمع کرکے اپنے ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اس حوالے سے جب جسٹس مشیر عالم نے آئی ایس آئی کے نمائندے سے سوال کیا کہ اس شخص کا ذریعہ آمدن کیا ہے تو بتایا گیا کہ سوائے چندے جمع کرنے کے علاوہ اس شخص کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ خادم حسین رضوی اب بھی ایک مسجد کے امام ہیں یعنی سرکاری ملازم ہیں، رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ خادم حسین رضوی نوجوانوں کو مذہبی مقاصد اور مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کیلئے ورغلا کر ان سے کوئی بھی کام لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ خادم رضوی ٹانگوں سے معذور اور وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں