معاہدہ ختم ۔۔۔۔؟ تحریک لبیک ایک مرتبہ پھر ایکشن میں ، حکومت نے کیا دھوکہ کیا؟ پاکستانیوں کی مصیبتوں میں اضافہ کردینے والا اعلان کر دیا گیا

کراچی (ویب ڈیسک )جیو کےپروگرام’’نیا پاکستان طلعت حسین کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا ہے کہ ایف آئی آر والے مقدمات عدالت جائیں گے، معاہدہ کے مطابق پولیس تحویل میں موجود لوگوں کو رہا کردیا جائے گا، جن لوگوں کی ایف آئی آرز کٹ گئی ہیں ان سے متعلق قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا،عدالت میں مقدمہ چلا جائے تو حکومت معاونت کرسکتی ہے فیصلہ عدالت کا ہوتاہے،

زیرسماعت مقدمات یا نظرثانی اپیلوں میں ملوث لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا کام ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کا ہوتا ہے۔حشر کا رب کو علم ہے ۔آسیہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لئے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی۔جلد از جلد عمل ہوگا،غلط فہمی نہ پیدا کی جائے۔تحریک لبیک کے رہنماعلامہ فاروق الحسن قادری نے کہا کہ صاحبزادہ نور الحق قادری نئی اسٹوری سنارہے ہیں،سارے مقدمات ختم کرنے کی بات ہوئی تھی، مذاکرات میں تمام مقدمات ختم کرنے پر اتفاق ہوا تھا

، تھانے میں موجود لوگوں کو فوری رہا کرنے اور جن پر مقدمات قائم ہوگئے ہیں انہیں دو سے تین دن میں چھوڑنے پر اتفاق ہوا تھا، حکومت نے سوتیلی ماں والا سلوک کیا تو ان کا حشر کوئی اچھا نہیں ہوگا،اگر معاہدہ کی خلاف ورزی ہوئی تو ہم بھی ادھر ہیں سڑکیں بھی ادھر ہیں۔حکومت وعدہ خلافی کرے گی تو حشر اچھا نہیں ہو گا۔امید کرتا ہوں جو معاہدے میں لکھا ہے حکومت اس کی پاسداری کرے گی،حکومت کو چھ،سات دن میں معاہدے پر عمل کرنا ہے ۔سنیئر صحافی فہد حسین نے کہا کہ حکومت نے معاہدہ میں خود کو بچا کر عدلیہاور مظاہرین کو آمنے سامنے کردیا ہے

، نظرثانی اپیل میں من پسند فیصلہ نہیں آیا تو کیا حکومت سارا بوجھ عدلیہ پر ڈال دے گی۔ڈاکٹر نور الحق قادری نے کہا کہ مذاکرات میں جن معاملات پر اتفاق رائے ہوا اس کے مطابق بات کروں گا، پولیس تحویل میں موجود لوگوں کو رہا کردیا جائے گا، جن مقدمات میں ایف آئی آر کٹ چکی ہے ان سے متعلق قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا اور عدالتیں فیصلہ کریں گی، حشر کس کا کیسا ہوگا یہ تو اللہ کو ہی علم ہے، میں نے وہی کچھ بتایا ہے جو مذاکرات میں ہوا تھا، عدالت میں مقدمہ چلا جائے تو حکومت صرف معاونت کرسکتی ہے فیصلہ عدالت کا ہی ہوتا ہے۔ صاحبزادہ نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کیلئے بھی باقاعدہ طریقہ کار ہے،

ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ میں زیرسماعت مقدمات یا نظرثانی اپیلوں میں ملوث لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا کام ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کا ہوتا ہے، قانونی طریقہ کار پر عمل کیا جائے تو سپریم کورٹ کے کہنے یا اس کی اجازت سے آسیہ مسیح کا نام ای سی ایل میں ڈالا جاسکتا ہے، وزارت داخلہ اس حوالے سے فیصلہ نہیں کرسکتیالبتہ حکومت اس میں مکمل تعاون کرے گی۔صاحبزادہ نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ معاہدہ پر جلد از جلد عملدرآمد کی کوشش کریں گے، طلعت حسین صاحب جب ہم دونوں راضی ہیں تو آپ کو غلط فہمی پیدا کرنے کا کیا شوق ہے، لاہور کی ایک مناسب جگہ پر مذکرات ہوئے تھے۔

علامہ فاروق الحسن قادری نے کہا کہ حکومتی ٹیم سے مذاکرات میں تمام مقدمات ختم کرنے پر اتفاق ہوا تھا، طے ہوا تھا کہ تھانے میں موجود لوگ فوری رہا کردیئے جائیں گے جبکہ جن پر مقدمات قائم کر کے جیلوں میں بھیج دیا گیا ہے انہیں دو سے تین دن میں چھوڑ دیا جائے گا، صاحبزادہ نور الحق قادری نئی اسٹوری سنارہے ہیں، اس طرح کے مسند پر بیٹھنے والے لوگوں کو یہ باتیں مناسب نہیں لگتیں کہ پروسیجر عدالت کرے گی، پاکستان میں پولیس جتنی ایمانداری سے مقدمات قائم کرتی ہے سب کو پتا ہے،

ان کا دل چاہے تو اشارہ توڑنے پر سزا دیدے ، دل چاہے تو چودہ قتل کرنے والوں کو چھوڑ دے یا فیض آباد میں آٹھ افراد مارنے والے کو چھوڑ دے۔ فاروق الحسن قادری کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نے ہمارے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیا، نئی حکومت بھی یہی سلوک کرے گی تو ان کا حشر کوئی اچھا نہیں ہوگا،ہم ذاتیات کیلئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کیلئے آئے، امید کرتے ہیں صاحبزادہ نور الحق قادری ہمارے ساتھ کیے گئے وعدہ پر عملدرآمد کروائیں گے۔ فاروق الحسن قادری نے کہا کہ معاہدہ میں آسیہ مسیح کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی شق نور الحق قادری صاحب کو غور سے پڑھ لینی چاہئے، ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں آسیہ مسیح کا نام ٹی ایل پی نے نہیں حکومت نے ڈالنا ہے،

حکومت نے کہا ہے کہ وہ آسیہ مسیح کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کرے گی، امید کرتا ہوں ڈاکٹر نور الحق آف دی ریکارڈ باتوں کے بجائے معاہدہ میں لکھی گئی شقوں پر بات کریں گے اور اپنے اقرار کی پاسداری فرمائیں گے۔فاروق الحسن قادری کا کہنا تھا کہ حکومت نے معاہدہ پر عملدرآمد کیلئے چھ سات دن کی مہلت مانگی ہے، اگر معاہدہ کی خلاف ورزی ہوئی تو ہم بھی ادھر ہیں سڑکیں بھی ادھر ہیں، ہم کہیں باہر سے نہیں آئے پاکستان کے ہی شہری ہیں، نہ ہمارے بچے باہر ہیں نہ ہم باہر کا کوئی ایجنڈا لے کر آئے ہیں، امید ہے حکومت اپنے معاہدے کی پاسداری کرے گی۔فہد حسین نے کہا کہ ٹی ایل پی حکومت معاہدہ میں شقوں کی مختلف طرح کی تشریح کی جاسکتی ہے،

اپنا تبصرہ بھیجیں