منی لانڈرنگ کیس میں ایان علی نے اپنے اوپر لگے الزامات کے بارے میں زبان کھول دی

لاہور (اردو نیوز) ایان نے نئے وکیل کی خدمات بھی حاصل کرلیں۔ انسٹا گرام پوسٹ میں ماڈل نے اہم اشارے دے دیے۔ ایان علی کو 14مارچ 2015 میں دبئی جاتے ہوئے پانچ لاکھ ڈالرز اسمگل کرنے کی کوشش کے الزام میں بینظیر بھٹوائرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

منی لانڈرنگ کے الزام میں ایان علی نے تقریبا دو سال تک پیشیاں بھگتیں اورسپریم کورٹ کے حکم پرای سی ایل سے نام نکلتے ہی گزشتہ سال فروری میں دبئی روانہ ہوگئی تھیں۔ جس کے بعد عدالت نے مسلسل 33 سماعتوں سےغیرحاضر ہونے پر ملزمہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کررکھے ہیں۔

بالآخر ایان علی نے خاموشی توڑتے ہوئے سب کو یاد دلایا ہے کہ گرفتاری کے وقت ائرپورٹ پر وہ اکیلی نہیں تھیں۔

انسٹاگرام پرایان نے لکھا کہ میری صحت اور ذہنی حالت ایسی نہیں تھی کہ میں اپنے خلاف مقدمات کا ویسا دفاع کرپاتی جو میں کرنا چاہتی تھی۔ میں اپنا وکیل تبدیل کرچکی ہوں اور زیرسماعت دیگرمقدمات میں بھی اپنے وکلا تبدیل کر رہی ہوں۔ میرے خلاف تمام مقدمات کا اب سے ایک نیا آغاز ہوگا۔

ماڈل نے مزید لکھا کہ بغیر کسی ثبوت کے منی لانڈرنگ سے متعلق الزامات اور 4 سال سے اس خوفناک صورتحال کا سامنا کرنے پرمیں کچھ پوچھنا چاہتی ہوں۔ ” اسلام آباد ائرپورٹ کے راول لاؤنج کی ویڈیو کے مطابق اگر سابق صدر کے پی اے اور رحمان ملک کے بھائی خالد ملک میرے ساتھ تھے تو انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ ان کا نام میرے خلاف درج ایف آئی آرمیں کیوں شامل نہیں اور وہ کسی بھی بھی تفتیش کا حصہ کیوں نہیں؟۔

ایان علی نے اہم سوالات اٹھانے کے بعد اپنی پوسٹ میں مزید واضح کیا کہ میری ذات سے میرے ملک اور اس کے لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ وہ لوگ جوکچھ بھی کہہ کر اسے مذاق سمجھ رہے تھے، انہیں تمام جوابات مل جائیں گے۔

واضح رہے کہ ایان علی نے گواپنے پیغامات میں سابق صدر کا نام نہیں لیا لیکن ان کااشارہ آصف زرداری کی جانب ہے جن کا نام منی لانڈرنگ کے حوالے سے لیا جاتا رہا ہے۔ دو روز قبل نجی ٹی وی کو انٹرویو میں آصف زرداری سے پوچھا گیا کہ کیا کرنسی اسمگلنگ کیس میں ایان علی وعدہ معاف گواہ بن سکتی ہیں جس پر سابق صدر بولے کہ وعدہ معاف گواہ کس بات پر؟ ان سے کوئی تعلق نہیں۔ جب وہ آئیں گی تو دیکھیں گے، میں تیار ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں