بھارت کی جانب سے پاکستان کے کن کن لوگوں کو ڈیمز کی مخالفت کرنے کی رقم ملتی ہے؟ پاکستان میں ڈیموں کا سب سے بڑا مخالف کون ہے؟ بڑی حقیقت منظر عام پر آگئی

“لاہور (نیوز ڈیسک)نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے ڈیم کے خلاف بیان پر کہا کہ مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی میں ایک کمشنر بھار ت اور ایک پاکستان میں ہوتا ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارتی کاونٹر پارٹ کی جانب سے یہ تجاویز چھپ چکی ہیں اور اعداد و شمار شائع ہو چکے ہیں کہ 22 ارب روپے انکے ڈسپوزل پر ہوتے ہیں اور بڑے دعوے کرتے ہیں کہ پاکستان میں بڑے ڈیموں کی مخالفت میں وہ یہ پیسے خرچ کر رہے ہیں اور، لوگوں کو تقسیم کر رہے ہیں کہ وہ بڑے ڈیموں کی طرف نہ آئیں۔ اب ڈیموں کی بات چیف جسٹس اور عمران خان نے خود شروع کی ہے تو اتنے کھلے طور پر ، جیسا کہ خورشید شاہ اور مراد علی شاہ نے ڈٹ کر مخالفت کر دی ہے ۔ یہ لوگ کونسے ملک کے رہنے والے ہیں۔

سب سے بڑی بات یہ کہ سندھ سے کونسا مشورہ کیا جائے ، کیا ڈیم بننے کی جگہ سندھ میں واقع ہے؟ وہ جگہ انتہائی شمال میں واقع ہے، نہ وہ سندھ کا علاقہ ہے کہ کہہ سکیں کہ ہماری زمین اس ڈیم کے نیچے دبے گی، وہ کس لیے کس بنیاد پر اعتراض کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ وہ ہر بات پر جان بوجھ کر اعتراض برائے اعتراض کر رہے ہیں۔ پاکستان کے بڑے ڈیموں کے خلاف بھارتی بجٹ پھر خورشید شاہ صاحب کو ملتا ہوگا، اور ان سارے لوگوں کو مراد علی شاہ کو بھی حصہ ملتا ہوگا۔ میں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ جب ایک بات ثابت ہو رہی ہے۔

پاکستان میں جئے سندھ والوں سے شروع ہو کر پیپلزپارٹی کے وڈیروں تک اور اس کے علاوہ عبدالولی خان کے صاحبزادے اسفند یارولی سب سے زیادہ پیش پیش تھے کہ اگر کالا باغ ڈیم بنا تو میں بم سے اڑا دوں گا۔ یہ کون لوگ ہیں؟ یہ اس ملک کے رہنے والے ہیں یا اس ملک سے باہر کے علاقوں میں رہتے ہیں؟ کون انکو پیسے دے رہا ہے ؟کون انکی مٹھی گرم کر رہا ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے اس ملک میں؟یہ چیف جسٹس صاحب سے پوچھنا چاہئے ، میرا خیال ہے کہ میں جا کر ان سے گذارش کرتا ہوں کہ ملاقات کے لیے ٹائم دیں۔ ان سے پوچھنا چاہئے کہ اگر کسی ملک کا سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بھی خود کو اس قسم کی تنقید سے نہیں بچا سکتا تو پھر اور کو ن بچا سکتا ہے ۔