ن لیگ کے بعد متحدہ مجلس عمل نے بھی اعتزاز احسن کو متفقہ امیدوار ماننے سے انکار کر دیا ، مولانا فضل الرحمان صدارتی اُمیدوار بننے کے خواہشمند

پاکستان مسلم لیگ ن کے بعد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے ) نے بھی پاکستان پیپلزپارٹی کے صدارتی امیدوار اعتزاز احسن کو متفقہ امیدوار ماننے سے انکار کر دیا ۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے بعد متحدہ مجلس عمل(ایم ایم اے ) نے بھی پاکستان پیپلزپارٹی کے صدارتی امیدوار اعتزاز احسن کو متفقہ امیدوار ماننے سے انکار کر دیا ، سیکرٹری جنرل متحدہ مجلس عمل لیاقت بلوچ نے ایم ایم اے کے فیصلے سے صدر مسلم لیگ ن شہبازشریف کو آگاہ کر دیا ہے ۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے صدارتی امیدوار کے لئے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے نام پر متحدہ مجلس عمل ، عوامی نیشنل پارٹی اور ن لیگ سمیت دیگر جماعتیں متفق ہو گئیں ہیں لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن کا نام واپس لینے سے انکار کر دیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان نے صدارتی امیدوار کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان ثالثی کرانے میں مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ اپوزیشن کا متفقہ امیدوار آئے لیکن تاحال پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان ثالثی کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنا وفد بھیجا تھا لیکن مسلم لیگ ن اعتزاز احسن کو صدارتی امیدوار تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو رہی ۔ پیپلز پارٹی اعتزاز احسن کے نام پر بضد ہے اور ن لیگ ماننے کو تیار نہیں ہے ۔ خیال رہے کہ سوموار تک ہر صورت اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے صدرِ پاکستان کا نام پیش کرنا ضروری ہے ۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے چودھری اعتزاز احسن کے بطور صدر اُمیدوار پر ن لیگ کو تخفطات ہیں ، اگر یوسف رضا گیلانی کے نام پر اتفاق ہو گیا تو پھر اپوزیشن جماعتیں اپنے امیدوار کے نام واپس لے لے گی ۔