وزیرخارجہ بنتے ہی شاہ محمود قریشی نے سب سے پہلے کس ملک جانے کا اعلان کر دیا؟ دشمنوں کو آگ لگ جائیگی

اسلام آباد (نیوزڈیسک) نومنتخب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ میں افغانستان کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں،افغانستان میں امن کے بغیر پاکستان میں چین نہیں ،اپنے ہمسائیوں کے ساتھ نئی شروعات کرنا چاہتا ہوں اور بھارتی وزیر خارجہ کو پیغام دیتا ہوں کہ ہم روٹھ کر ایک دوسرے سے منہ نہیں موڑ سکتے ہیں کشمیر بھی ایک حقیقت ہے مسئلہ کشمیر کو تسلیم کر نا ہے اورہمیں مسلسل مذاکرات کا راستہ اپنانا ہے۔ایوان صدر میں عہدے کا حلف لینے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دفتر خارجہ پہنچے جہاں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ میں معاشی چیلنجز سے ناواقف نہیں ہوں۔

100روزہ پلان کو مرتب کرنے میں میرا حصہ ہے مجھے معاملات کا احساس ہے ،ہم خدمت کے جذبے سے اقتدار میں آئے ہیں،ہمارے مسائل کا حل گفت وشنید کے بغیر ممکن نہیں،نئے پاکستان کا تقاضا ہے کہ رویے بدلیں،ان کا مزید کہنا تھا کہ بطور وزیر خارجہ میر اپہلا پیغام افغانستان کو ہے ،میں افغانستان کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں،افغانستان میں امن کے بغیر پاکستان میں چین نہیں ،اپنے ہمسائیوں کے ساتھ نئی شروعات کرنا چاہتا ہوں،وہاں کئی لوگوں سے میرے درینہ مراثم ہیں،ان لوگوں کو کہنا چا ہتا ہوں ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنا ہے اورنئے سفر کا آغاز کرنا ہے۔

یہ پیغام لے کر میں کابل جانا چاہتاہوں۔دوسرا پیغام میرا بھارتی وزیر خارجہ کو ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہمسائے ممالک کے علاوہ ایٹمی قوتیں ہیں،مسائل اور مشکلات سے دونوں ملک آگاہ ہیں،ہم روٹھ کر ایک دوسرے سے منہ نہیں موڑ سکتے ہیں کشمیر ایک حقیقت ہے اور ہمیں مسئلہ کشمیر کو تسلیم کر نا ہے،مسلسل مذاکرات کا راستہ اپنانا ہے ،ہم چاہیں نہ چاہیں مذاکرات ہی دانشمندانہ راستہ ہیں،میں بھارت کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ایڈونچر کا کوئی فائدہ نہیں اس سے دونوں ممالک کو نقصان ہو گا،گزشتہ روز بھارتی وزیراعظم کا خط آیا تھا۔

عمران خان کو مبارکباد دی اور نرندرمودی نے گفت وشنید کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں امریکی حکام کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا،ملک چھوٹے بڑے ہوتے ہیں لیکن عزت نفس سب کا برابر ہوتا ہے دونوں ملکوں میں اعتماد کی کمی ہے ،مجھے امریکا کی ترجیحات کا اندازہ ہے ،لیکن ہمار ی اپنی بھی ترجیحات ہیں،میں ان کو سننے کا ارادہ رکھتا ہوں ،اور اعتماد میں کمی جو کہ دونوں جانب ہے اسے دور کرنا چاہتا ہوں،تعلقات برابری کی سطح پر ہونے چاہئے،بامعنی مذاکرات کی ضرورت ہے۔

خارجہ پالیسی میں اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے ،اور خارجہ پالیسی میں سب سے پہلے پاکستان ہے،پاکستان کی خارجہ پالیسی یہاں بنائی جائے گی ،دفتر خارجہ میں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ قوتیں ملک کو تنہائی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتی آئی ہیں جس کی وجہ وزیر خارجہ کی عدم موجودگی تھی اور وزیر خارجہ نہ ہونے سے ملک کو نقصان پہنچا،خارجہ پالیسی کی سمت درست کی جائے گی۔خارجہ پالیسی پاکستان سے شروع او رپاکستان پر ہی ختم ہو گی۔خارجہ پالیسی کمزور ہو تو دشمن فائدہ اٹھا تا ہے۔

اس حکومت نے عوام کے مطابق چلنا ہے ہم چاہتے ہیں خطے میں امن ہوں،پاکستان کے مفادات سب سے اولین ہیں،خارجہ پالیسی کی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے ،ماضی میں وزیرخارجہ نہ ہونے کی وجہ سے نقصان ہوا اس کے حل کے لئے میں اپوزیشن کو مل کر ساتھ چلنے کی دعوت دیتا ہوں،چاہوں گا اپوزیشن کے ساتھیوں سے مشاورت کی جائے ،میں حنا ربانی کھر ،خواجہ آصف اورایم ایم اے کے کسی رہنما سے رجوع کروں گا ،ان کی آرا سے مستفید ہوں گا۔