شاہ محمود قریشی کی دلی خواہش پوری ہوگئی۔۔۔ایسی پسندیدہ وزارت مل گئی کہ جان کر حیران رہ جائیں گے

وزیراعظم عمران خان نے آج اپنے عہدے کا حلف اُٹھایا جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ کے حوالے سے چہ مگوئیاں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ کون سے وزارت کس کو ملے گی اس بات کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا البتہ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی نئی کابینہ میں پاکستان تحریک انصاف کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی وزارت خارجہ ہوں گے جبکہ اسد عمر کو وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا جائے گا۔

میڈیا ذرائع نے بتایا کہ عمران خان وزارت داخلہ کا قلمدان اپنے پاس ہی رکھیں گے۔ عمران خان وزارت داخلہ کے معاملات میں معاونت کے لیے مشیر رکھیں گے۔ مشیروں کے لیے شعیب سڈل اور ناصر درانی کے نام زیر غور ہیں البتہ تاحال کسی نام پر حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔نو منتخب وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ ممکنہ طور پر آئندہ دو دنوں میں حتمی شکل میں آجائے گی جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان اپنی کابینہ کے ہمراہ عوام سے کیے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے کام کریں گے۔گذشتہ روز قائد ایوان منتخب ہونے پر عمران خان نے قومی اسمبلی سے بحیثیت قائد ایوان خطاب کیا، اپنے پہلے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے ہم نے کڑا احتساب کرنا ہے۔

جن لوگوں نے اس ملک کولوٹا اور مقروض کیا ،وعدہ کرتا ہوں ان کو نہیں چھوڑوں گا،کسی قسم کا کسی ڈاکو کواین آر او نہیں ملے گا،میں نے 22سال جدوجہد کی، مجھے کسی ڈکٹیٹر نے نہیں پالا تھا۔قومی اسمبلی میں 176ووٹوں کے ساتھ قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔وہ تبدیلی آگئی ہے جس کا پوری قوم انتظار کررہی تھی۔اس ملک میں سب سے پہلے ہم نے کڑا احتساب کرنا ہے۔جن لوگوں نے اس ملک کولوٹا اور مقروض کیا ،وعدہ کرتا ہوں ان کو نہیں چھوڑوں گا۔کسی قسم کا کسی ڈاکو کواین آر او نہیں ملے گا۔میں نے 22سال جدوجہد کی، مجھے کسی ڈکٹیٹر نے نہیں پالا تھا۔میں اپنے پیروں پریہاں پہنچا ہوں۔

۔میرا باپ سیاست میں نہیں تھا۔ نہ میرا کوئی تجربہ تھا۔انہوں نے کہا کہ جوکرپٹ لوگ ملک کاپیسا لوٹ کرباہر لے کرگئے واہ واپس لے کرآئیں گے۔۔پارلیمنٹ کو طاقتور بناؤں گا۔ہر ہفتے پارلیمنٹ میں آؤں گا۔پچھلے 10سالوں میں 6ہزار سے آج 28ہزار قرض چڑھایا گیا ،ایوان میں اس پربحث کریں گے کہ انہوں نے ملک کوکیسے بدحال کردیا؟جو پیسا لوگوں کوتعلیم وصحت میں جانا تھا ،وہ لوگوں کی جیبوں میں چلا گیا۔انشاء اللہ اس پارلیمنٹ میں آکر بحث کریں گے اور یہ پیسہ واپس لائیں گے۔۔عمران خان نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ وہ نوجوان جن کی وجہ سے آج میں یہاں کھڑا ہوں ، نہ وہ ہماری حمایت کرتے اور نہ ہم یہاں ہوتے۔میں اپنے نوجوانوں کے مستقبل بہتر بنانے کی کوشش کروں گا۔۔عمران خان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں شور مچانے والوں سے پوچھتا ہوں کہ 2013ء کے الیکشن میں چار حلقوں کی بات کی لیکن انہوں نے چار حلقے نہیں کھولے۔

ہمیں اڑھائی سال عدالتوں میں جانا پڑا۔چاروں حلقوں میں غیرقانونی ووٹ نکلے۔انہوں نے کیوں احتساب نہیں کیا۔ واضح رہے کہ آج صبح نو منتخب وزیر اعظم عمران خان اپنے عہدے کا حلف لے چکے ہیں جس کے بعد عمران خان نے وزیراعظم آفس پہنچ کر اپنی ذمہ داریاں بھی سنبھال لی ہیں۔ میڈیا ذرائع نے بتایا کہ عمران خان وزارت داخلہ کا قلمدان اپنے پاس ہی رکھیں گے۔ عمران خان وزارت داخلہ کے معاملات میں معاونت کے لیے مشیر رکھیں گے۔ مشیروں کے لیے شعیب سڈل اور ناصر درانی کے نام زیر غور ہیں البتہ تاحال کسی نام پر حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔نو منتخب وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ ممکنہ طور پر آئندہ دو دنوں میں حتمی شکل میں آجائے گی جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان اپنی کابینہ کے ہمراہ عوام سے کیے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے کام کریں گے۔

گذشتہ روز قائد ایوان منتخب ہونے پر عمران خان نے قومی اسمبلی سے بحیثیت قائد ایوان خطاب کیا، اپنے پہلے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے ہم نے کڑا احتساب کرنا ہے۔جن لوگوں نے اس ملک کولوٹا اور مقروض کیا ،وعدہ کرتا ہوں ان کو نہیں چھوڑوں گا،کسی قسم کا کسی ڈاکو کواین آر او نہیں ملے گا،میں نے 22سال جدوجہد کی، مجھے کسی ڈکٹیٹر نے نہیں پالا تھا۔قومی اسمبلی میں 176ووٹوں کے ساتھ قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ وہ تبدیلی آگئی ہے جس کا پوری قوم انتظار کررہی تھی۔اس ملک میں سب سے پہلے ہم نے کڑا احتساب کرنا ہے۔جن لوگوں نے اس ملک کولوٹا اور مقروض کیا ،وعدہ کرتا ہوں ان کو نہیں چھوڑوں گا۔کسی قسم کا کسی ڈاکو کواین آر او نہیں ملے گا۔

میں نے 22سال جدوجہد کی، مجھے کسی ڈکٹیٹر نے نہیں پالا تھا۔میں اپنے پیروں پریہاں پہنچا ہوں۔۔میرا باپ سیاست میں نہیں تھا۔ نہ میرا کوئی تجربہ تھا۔انہوں نے کہا کہ جوکرپٹ لوگ ملک کاپیسا لوٹ کرباہر لے کرگئے واہ واپس لے کرآئیں گے۔۔پارلیمنٹ کو طاقتور بناؤں گا۔ہر ہفتے پارلیمنٹ میں آؤں گا۔پچھلے 10سالوں میں 6ہزار سے آج 28ہزار قرض چڑھایا گیا ،ایوان میں اس پربحث کریں گے کہ انہوں نے ملک کوکیسے بدحال کردیا؟جو پیسا لوگوں کوتعلیم وصحت میں جانا تھا ،وہ لوگوں کی جیبوں میں چلا گیا۔انشاء اللہ اس پارلیمنٹ میں آکر بحث کریں گے اور یہ پیسہ واپس لائیں گے۔۔عمران خان نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ وہ نوجوان جن کی وجہ سے آج میں یہاں کھڑا ہوں ، نہ وہ ہماری حمایت کرتے اور نہ ہم یہاں ہوتے۔

میں اپنے نوجوانوں کے مستقبل بہتر بنانے کی کوشش کروں گا۔۔عمران خان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں شور مچانے والوں سے پوچھتا ہوں کہ 2013ء کے الیکشن میں چار حلقوں کی بات کی لیکن انہوں نے چار حلقے نہیں کھولے۔ ہمیں اڑھائی سال عدالتوں میں جانا پڑا۔چاروں حلقوں میں غیرقانونی ووٹ نکلے۔انہوں نے کیوں احتساب نہیں کیا۔ واضح رہے کہ آج صبح نو منتخب وزیر اعظم عمران خان اپنے عہدے کا حلف لے چکے ہیں جس کے بعد عمران خان نے وزیراعظم آفس پہنچ کر اپنی ذمہ داریاں بھی سنبھال لی ہیں