پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ کے دوران خودکش حملے کے نتیجے میں پارٹی رہنما اور بشیر بلور کے بیٹے ہارون بلور سمیت 12 افراد شہید

پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی کارنر میٹنگ کے دوران خودکش حملے کے نتیجے میں پارٹی رہنما اور بشیر بلور کے بیٹے ہارون بلور سمیت 12 افراد شہید ہوگئے ہیں ۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ پشاور کے علاقے یکہ توت میں اس وقت ہوا جب ہارون بلور کارنر میٹنگ میں داخل ہوئے اور اسٹیج کی طرف جا رہے تھے کہ خودکش حملہ آور نے انہیں نشانہ بنایا ۔ پی کے 78 سے اے این پی کے امیدوار ہارون بلور کے اہلخانہ نے ان کی شہادت کی تصدیق کردی ہے ۔ سی سی پی او پشاور قاضی جمیل نے کہا کہ 11 بجے کے قریب ہونے والے واقعے میں 12 افراد شہید اور 30 سے زائد زخمی ہوئے ہیں ۔ قاضی جمیل نے بم ڈسپوزل یونٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں 8 کلو ٹی این ٹی کا استعمال کیا گیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہارون بلور کی سیکیورٹی پر دو پولیس اہلکار مامور تھے ۔

اے آئی جی بم ڈسپوزل شفقت ملک نے خودکش حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اچھے معیار کا دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا ۔ پولیس کے مطابق خود کش حملہ آور کارنر میٹنگ میں پہلے سے موجود تھا اور اس نے دھماکا اس وقت کیا جب ہارون بلور کی آمد پر آتش بازی کی جا رہی تھی ۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے افراد جائے وقوعہ پر پہنچ چکے ہیں جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے ۔ خیال رہے کہ ہارون بلور بشیر بلور کے بیٹے ہیں جو 22 دسمبر 2012 کو ایک خودکش حملے کے دوران شہید ہوگئے تھے ۔ دوسری جانب نگران وزیراعظم ناصرالملک اور متعدد سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے پشاور دھماکے کی شدید مذمت کی ہے ۔ قائد مسلم لیگ ن میاں نوازشریف نے بھی خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد جمہوریت کا راستہ روکنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد کل بھی ناکام ہوئے تھے اور آج بھی ناکام ہوں گے، ہم سوگواران کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اے این پی کی کارنر میٹنگ میں دہشتگردی کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر دہشتگردی سے پاکستان اور جمہوریت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وطن کو دہشتگردی سے محفوظ کرنا سب کی ذمہ داری ہے، پیپلزپارٹی دہشتگردی کےشکار ہر پاکستانی کے ساتھ کھڑی رہےگی ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے دشمن دہشتگردی کے ذریعے ملک اور جمہوریت پر حملہ آور ہیں ۔ چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ سیکورٹی اداروں کی کمزوری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حملہ شفاف الیکشن کے خلاف سازش ہے، تمام امیدواروں کو یکساں سیکورٹی فراہم کرنے کے احکامات دیے گیے ۔ سردار محمد رضا نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو امیدواروں کی فول پروف سیکورٹی کے احکامات دیے گئے ۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ سیاسی اختلافات کتنے ہی شدید ہوں گردنیں مارنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے ۔ چیئرمین پاک سرزمین پارٹی مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نہتے لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے انسان کہلانے کے مستحق نہیں، واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے ۔