ایک ساتھ دو بیٹیوں کے ساتھ کئی بار زیادتی ، زیادتی کرنے والا بھی گھر کا کونسا فرد تھا؟ ہفتے میں کئی بار گائنی کلینک کے چکر لگانے والی پشتو گلوکارہ نازیہ اقبال پر ان دنوں کیا گزر رہی ہے؟ افسوسناک خبر آگئی

لاہور ( ویب ڈیسک) پشتو گلوکارہ نازیہ اقبال اپنے بھائی کے ہاتھوں اپنی کمسن بیٹیوں کیساتھ جنسی زیادتی کے بعد ان دنوں بیٹیوں کے علاج کے سلسلے میں پشاور، لاہور اور اسلام آباد کے گائنی کلینکس کے چکر کاٹ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی دونوں کم سن بچیوں کی سرجری کی منتظر ہوں، جو میرے اندھے اعتبار کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی اذیت اور ناقابل بیان تکلیف کا شکار ہوئی ہیںاب انھیں سکول سے بھی نکالا جا رہا ہے کیونکہ سکول انتظامیہ کا خیال ہے کہ وہ ان کے ادارے کی بدنامی کا باعث بن سکتی ہیں۔ نازیہ اقبال کا کہنا تھا کہ میرا اپنے بھائی کے ہاتھوں اپنی بیٹیوں کیساتھ جنسی زیادتی کے واقعہ کو سامنے لانے کا مقصد کہ سب والدین بیدار ہو جائیں۔ کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا کہ وہ کیسا ہے۔ آپ اپنے بھائی باپ اور والد پر یقین کریں ضرور کریں لیکن اپنی آنکھیں بند نہ رکھیں اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔ نازیہ اقبال کا کہنا تھا کہ میں نے ان 14 برسوں میں کبھی بھی کسی مرد کو ملازم نہیں رکھا تھا یا خود کام کرتی تھی یا خاتون ملازمہ کی مدد لیتی جب میرا بھائی تھوڑا سمجھدار ہوا اور میں دوسرے شہر منتقل ہوئی، تو میں نے بھائی کو اپنے ساتھ رکھ لیا۔

اسی عرصے میں میرے شوہر نے بیرون ملک کاروبار شروع کر دیا۔میرا 19 سالہ بھائی مجھے سودا سلف لانے اور بچوں کو سکول لانے لے جانے اور میری مدد کرتا۔ میرے گھر سے نکلنے پر بچیاں روتی تھیں لیکن کبھی انھوں نے ایسا کچھ نہیں بتایا کہ مجھے شک ہوتا یا میں کچھ جانچنے کی کوشش کرتی۔ان دو سالوں میں کچھ غیر معمولی نہیں ہوا ہاں یہ تھا کہ مجھے ہر دوسرے دن بچیوں کو پیٹ میں درد کی شکایت پر معدے کے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتی تھی۔ ہر وقت درد رہتا تھا اور ڈاکٹر کو کیا معلوم کہ ان بچیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے وہ مجھے یہی کہتے تھے کہ باہر کی چیزیں مت کھلائیں چپس وغیرہ۔نازیہ اقبال کا کہنا تھا کہ ان کا کام ایسا تھا کہ انہیں اس سلسلے میں دوسرے شہر جانا پڑتا تھا لیکن اب مجھے پتہ چل رہا ہے کہ جب میں گھر سے نکلنے کیلئے تیار ہونے لگتی تو میرے بڑی بیٹی کانپنے لگتی اور کہتی امی آپ ہمیں بھی ساتھ لے جایا کریں وہ بہت روتی اور فریاد کرتی تھی لیکن میں اس کی وجہ یہی سمجھتی رہی کہ وہ پڑھائی میں دل نہیں لگا رہی۔

میں چاہتی تھی کہ وہ پڑھیں لکھیںاور میرے کام میں دلچسپی نہ لے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک معمول کی صبح تھی میرے تین سالہ بیٹے نے مجھے کہا کہ اُسے ناشتا کرنا ہے میں رات دیر سے کام سے لوٹی تھی سوچا کہ اپنے چھوٹے بھائی سے کہتی ہوں وہ ناشتا بازار سے لے آئے۔ کمرے سے نکلی تو آٹھ سالہ بیٹی کے رونے کی آواز سنائی دی۔میں سمجھی کہ بچے آپس میں کسی بات پر لڑ رہے ہیںمیں بھائی کے کمرے میں داخل ہوئی تومیں نے اسے اپنی بیٹی کے ساتھ ایسی حالت میں دیکھا کہ میں بیان نہیں کر سکتی، میں ایسی ہو گئی جیسے مر گئی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم میں کیسے گری کیسے میں نے خود کو مارا اور کیسے اُسے پیٹا۔ میرا بھائی وہاں سے فرار ہو گیا۔ نازیہ اقبال بتاتی ہیں کہ پولیس کے پاس جانے کے بجائے وہ پہلے اپنی ماں کے پاس گئیں۔جب انہوں نے اس دلخراش واقعہ کا ذکر کرتے ہوئےاپنی ماں کوبتایا کہ میںبچیوں کو گائنا کالوجسٹ کے پاس لے کر گئی ہوں اور اس نے بتایا ہے کہ تمھاری بچیاں ٹھیک نہیں ہیں لیکن میری ماں مجھ سے ایسے ملی جیسے میری بیٹیوں نے ان کے بیٹے کے ساتھ کچھ ایسا کیا ہے۔

نہ مجھے پانی کا پوچھا اور نہ ہی میرا دکھ بانٹا۔ میری ماں اب تک اپنے بیٹے کا ساتھ دے رہی ہیں ہاں لیکن وہ ڈی این اے پر اصرار کر رہی ہیں۔ پھر میں نے رپورٹ درج کروائی میرا بھائی گرفتار ہو گیا۔میرے خاندان والے میرے ساتھ نہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ سب چھپا دیتی شور نہ مچاتی لیکن میں سوچتی ہوں کہ میری بیٹیاں ج و ابھی تو نہیں جانتی کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے لیکن کل جب وہ بڑی ہوں گی تو اور انھیں پتہ چلے گا خود پر گزری زیادتی کا تو کیا وہ مجھ سے سوال نہیں کریں گی کہ ماں نے انھیں انصاف کیوں نہیں دلایا؟ میری بیٹیاں اسی کا نام لیتی ہیں۔ وہ سوتے میں چیخنے چلانے لگتی تھیںاور مجھے انھوں نے بتایا کہ یو ٹیوب پر ماموں ہمیں قتل کرنے والی ویڈیو دکھاتے تھے۔ کبھی پنکھے سے لٹکتی لاشیں کہ اگر تم نے ماما کو بتایا تو تمھیں مار دوں گا۔ بھائی کی گرفتاری کے بعد جب بیٹیوں نے مجھے یہ سب بتایا تو میں نے ان کی تسلی کے لیے دو تین بار انھیں ہتھکڑی لگے ہوئے بھائی کو دکھایا تو وہ پر سکون اور خوش ہوئیں۔ میرے شوہر اس بات کو منظر عام پر لانے میں میرے ساتھ کھڑے ہیں۔

مجھے سوشل میڈیا پر لوگوں کے پیغامات ملتے ہیں جن میں زیادہ تر افراد میرا حوصلہ بڑھا رہے ہیں بہت کم ہیں جو تنقید کر رہے ہیں۔ اپنے بچوں کے سامنے تو نہیں لیکن چھپ چھپ کر روتی ہوں میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ میں چپ رہوں سب کے بچے میرے بچے ہیں میں اس امید کے ساتھ کھڑی ہوں کہ مجھے حکومت اور قانون انصاف دے گا۔ والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہیے،جب وہ سکول سے لوٹیں تو ان سے پوچھیں کہ دن کیسا گزرا کیا کھایا دوستوں کے ساتھ کیا کھیلا؟ انھیں اعتماد دیں تاکہ وہ خوف اور دباؤ کا شکار نہ ہوں۔سکول میں بھی بچوں کو اپنے تحفظ اور اپنے والدین سے ہر بات شیئر کرنے کی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ بالکل ایسے جیسے آپ اسلامیات، انگریری اور اردو پڑھاتے ہیں یہ بھی سکھائیں کہ ’گڈ ٹچ‘ اور ’بیٹڈ ٹچ‘ کیا ہوتا ہے۔