کارگل جنگ میں پاک فوج کی جانب سے پشتو میں وائرلیس پیغامات کیوں بھجوائے گئے ؟ وجہ انتہائی حیران کن نکلی

لاہور(نیوزڈیسک) کارگل کی جنگ کے بارے میں ہنوز ایسے متنازعہ امور کو بحث میں لایا جارہا ہے جس سے اس جنگ میں سابق آرمی چیف اور صدر پاکستان جنرل پرویزمشرف کا ایڈونچر کھل کر سامنے آرہا ہے ۔پاک فوج کے سابق لیفٹنٹ جنرل شاہد عزیز نے اپنی کتاب ’’ یہ خاموشی کہاں تک؟‘‘میں جنرل مشرف اور کارگل جنگ کے بارے میں بہت سے رازوں سے پردہ بھی اٹھایاتھا اور ایسے دعوے بھی کئے تھے جن سے کارگل جنگ کا زاویہ نگاہ بدل کر دیکھنے کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے ۔جنرل شاہد عزیز جو کہ جنرل پرویز مشرف کے رشتہ دار بھی تھے ،انہوں نے اپنی کتاب میں جنرل مشرف کی کتاب ’’ان دی لائن آف فائر‘‘ پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے جنرل مشرف کے دعووں کو جھٹلایاہے۔

کارگل جنگ کے دوران پاکستانی ا ور عالمی میڈیا پریہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ مجاہدین ہیں جوبھارتی فوج کی جارحیت کا مقابلہ کررہے ہیں لیکن جنرل شاہد عزیز نے اپنی کتاب میں اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا بلکہ لکھا کہ ’’اس پوری لڑائی میں مجاہد کا کوئی حصہ نہیں تھا۔ جب پہلی مرتبہ MOمیں بریفنگ (briefing)کے لیے گیا تو جنرل تو قیر ضیا (DGMO) نے بتایا کہ یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ فوج اس کارروائی میں شامل نہیں ، ٹیپ پرریکارڈ کیے ہوئے پشتو میں پیغامات وائر لیس پر شروع سے چلائے جارہے تھے ، تاکہ یہ تصور قائم ہو کہ یہ سب کام مجاہدین ہی نے کیے ہیں۔ یہ سن کر میں بڑا حیران ہوا اور میں نے سوال کیا کہ کیا فائدہ ، کیونکہ ہماری اتنی فوج دشمن کے علاقے میں گھس بیٹھی ہے۔ وہ ہم سے لڑیں گے ، کچھ ہمارا سامان بھی ان کے قبضے میں آئے گا، کچھ قیدی بھی اور کچھ شہیدوں کے جسم بھی۔

کسی بھی جنگ میں اس طرح کی بات چھپائی نہیں جا سکتی۔ اس پر جنرل عزیزبھی ناراض ہوئے اور کچھ بحث ہوئی پھر DGMOنے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کہا آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، مگر ہوا ایسے ہی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ISIکو کارگل میں فوج کی کارروائیوں کی خبر نہ تھی ، کیونکہ ان کے نمائندے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر فوج کی نقل و حرکت ، توپوں کے نئے علاقے میں لے جانا ، اُن کا امونیشن جگہ جگہ پہنچانا چھپ نہیں سکتا۔ صرف گاڑیوں ہی کی حرکت ، بات سمجھنے کو کافی ہوگی ۔ پھر FCNAمیں ہزاروں لوگوں کو ان کاررائیوں کا علم تھا۔ آپ اوپر کے درجے پر جتنی بھی خاموشی رکھیں، ISIکے کارندوں سے یہ سب چھپ نہیں سکتا۔

جس ماحول میں یہ سب ہوا ، یقیناً نواز شریف صاحب ، جو پرائم منسٹر تھے اور جنہیں DG ISI خبریں پہنچاتے تھے ، اس کی تیاری سے بے خبر نہیں ہو سکتے ۔ اس کے علاوہ میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ اُن کو باقاعدہ طریقے سے بتایا گیا یا نہیں اور اگر بتایابھی گیا تو کیا اور کتنا بتا یا اور کیا تاثر دیا۔ ان دنوں سننے میں جو باتیں آتی تھیں ان سے یہی پتا چلتا ہے کہ بتایا گیا تھا ۔ ایک صاحب نے تو یہ بھی کہا کہ بریفنگ کے بعد چائے کے دوران نواز شریف صاحب نے ان سے کہا ’’ جنرل صاحب ، پھر آپ ہمیں کشمیر کب دلوا رہے ہیں ؟‘‘ واللہ عالم ۔ مجھے تو یقین نہیں کہ امریکہ بھی اس کارروائی سے لاعلم تھا ۔