ــ” یہ ممکن ہی نہیں کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کو ایبٹ آباد آپریشن کا علم نہ ہو، جنرل کیانی اب مجھ سے دور بھاگتے ہیں ورنہ میں پوچھتا” آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے چونکا دینے والے انکشافات

آسلام آباد (،مانیٹرنگ ڈیسک) راکے سابق چیف اے ایس دولت اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کی مشترکہ کتاب میں ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے بھی چونکا دینے والے انکشافات ہوئے ہیں۔ اسد درانی اس کتاب میں کہتے ہیں کہ امریکی آپریشن کے حوالے سے پاک فوج کے بے خبر ہونے کا تاثر درست نہیں ہوسکتا ۔غیر ملکی ہیلی کاپٹر پاکستان علاقے میں 150کلومیٹر تک گھس آئیں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کو اس بابت علم نہ ہو، یہ ممکن نہیں ہے ۔ جنرل (ر) اسد درانی نے انکشاف کیا ہے کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں اشفاق پرویز کیانی میرے پسندیدہ طالب علم تھے۔

اب وہ ریٹائرہوچکے ہیں تو اس کے باوجود مجھ سے دور دور رہتے ہیں کہ کہیں میں ان سے اس واقعے کے بارے میں پوچھ نہ لوں۔ اے ایس دولت کے مختلف سوالوں کے جواب میں جنرل (ر) اسد درانی نے بتایا کہ 2011ء میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے دو روز قبل جنرل (ر) کیانی کی امریکی جنرل سے بحری جہاز پر ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل پیٹریاس تھے۔ اس کے دو روز بعد ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے یہی لگتا ہے کہ اس ملاقات کا تعلق اسامہ بن لادن کیخلاف امریکی فوج کی کارروائی سے تھا۔