14 سال بعد مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان پھر متحد ، حافظ ابتسام الہی ظہیر نے سینیٹر پروفیسر ساجد میر کی غیر مشروط امارت قبول کرلی

14 سال بعد مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناراض دھڑے نے حافظ ابتسام الہی ظہیر کی قیادت میں سینیٹر پروفیسر ساجد میر کی غیر مشروط امارت قبول کرتے ہوئے ساتھ چلنےاور اپنے تمام اختلافات ختم کرکےاپنی جماعت جمعیت اہل حدیث کو مرکزی جمعیت اہل حدیث میں ضم کردیا ، سینیٹر پروفیسر ساجد میر کی طرف سے زبردست خیر مقدم ۔ تفصیلات کے مطابق علامہ احسان الہی ظہیر شہید کے بیٹے اور عرصہ سترہ سال قبل مرکزی جمعیت اہل حدیث سے الگ ہو کرجمعیت اہل حدیث کے نام سے ملکی سیاست میں اہل حدیث مکتبہ فکر کی نمائندگی کرنے والےحافظ ابتسام الہی ظہیر نے اپنے بھائیوں حافظ معتصم الہی ظہیر، حافظ ہشام الہی ظہیر ، علماء اور کارکنوں سمیت مرکزی جمعیت اہل حدیث میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

لاہور پریس کلب میں پروفیسر ساجد میر اور ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ابتسام الہی ظہیر نے کہا کہ ہمارا مسلک ، ہمارا عقیدہ ایک ہے ، ملک میں قرآن وسنت کی بالادستی اور جمہوریت کا استحکام بھی ہمارا مشترکہ نعرہ ہے ، بعض تنظیمی امور اور معاملات پر رائے کا اختلاف تھا جو الحمدللہ آج دور ہو گیا ہے ، ہم پروفیسر ساجد میر کو اپنا بزرگ اور امیر تسلیم کرتے ہیں، ہم نے ماضی کی تمام رنجشیں بھلا کر متحد ہو کر چلنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ ہم حافظ ابتسام الہی ظہیر انکے بھائیوں ،علما ء اور کارکنوں کو دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں ، انشا ء اللہ انہیں جماعت میں باوقار اور باعزت مقام دیں گے، جیسا کہ حافظ ابتسام نے بھی کہا کہ ہمارا عقیدہ اور فکر ایک ہے سیاسی امور میں اختلاف رائے کا ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے ،جس اخوت اور بھائی چارگی کے جذبے اور بغیر کسی شرط کے ساتھ انہوں نے ہمارے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کااعلان کیا ہے ہم اس کا خیر مقد م کرتے ہیں ۔ پروفیسر ساجد میرنے مزید کہا کہ ہماری جماعت کے دروازے باقی لوگوں کے لیے بھی کھلے ہیں،ہم قرآن وسنت کے حاملین کو ملک کی بڑی طاقت بنائیں گے، اعلائے کلمۃ اللہ کی سربلندی کے لیے سب کو ایک صف میں لائیں گے،یہ مارچ کا مہینہ شہید اسلام علامہ احسان الہی ظہیر اور انکے رفقا ء کی قربانیوں کا مہینہ ہے ،ہم شہادتوں کے اس مہینے میں عزم کرتے ہیں کہ ان کا مشن آگے لیکر چلیں گے،اسلام کے پرچم کو سربلند رکھیں گے، ملکی سلامتی اسکے دفاع اور استحکام پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے،فرقہ واریت، دہشت گردی اور انتہاپسندی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، تحفظ حرمین شریفین کے لیے ہر قسم کی قربانی دیں گے،سیکولر قوتوں کامقابلہ کریں گے، ملک میں دینی اقدار کے تحفظ کے لیے دینی جماعتوں کے ساتھ مل کر چلیں گے ۔

پروفیسر ساجد میر نے پریس کانفرنس کے موقع پر کالا شاہ کاکو میں 8 اور 9 مارچ کو منعقد ہونے والی آل پاکستان اہل حدیث کانفرنس کی تفصیلات بھی بتائیں اور کہا کہ اس کانفرنس میں امام کعبہ شیخ صالح بن محمد بن ابراہیم آل طالب مہمان خصوصی ہوں گے، امام کعبہ9 مارچ کا خطبہ جمعہ اہل حدیث کانفرنس میں ارشاد فرمائیں گے۔پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ اس کانفرنس میں سعودی عرب، برطانیہ، بھارت ، کویت، مالدیپ، فلسطین،افغانستان سے وفود شریک ہو رہے ہیں ،یہ کانفرنس ملک میں نفاذ اسلام، استحکام پاکستان اور تحفظ ختم نبوت کے لیے سنگ میل ثابت ہو گی ،کانفرنس میں چاروں صوبوں، آزادکشمیر ،گلگت بلتستان سے لاکھوں کی تعداد میں فرزندان توحید وسنت شریک ہو رہے ہیں ،حافظ ابتسام الہی ظہیر نے کانفرنس میں بھرپور شرکت کااعلان کیا اور کہا کہ ا نشا ء اللہ ملک بھر سے فرزندان تو حید وسنت اس میں شریک ہو کر اپنی قوت اور شوکت کا اظہار کریں گے ۔

پروفیسر ساجد میر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم جمہوریت کے خلاف ہر قسم کی ساز ش کا مقابلہ کریں گے ،سیاسی اور جمہوری جماعتوں کے پر کاٹنے کا عمل افسوس ناک ہے،سینٹ الیکشن میں مسلم لیگ ن کو آؤٹ کرنے کی منصوبہ بندی ایک عرصے سے ہورہی تھی،قانون کا ڈنڈا ہمیشہ سیاست دانوں پر چلا، قانون کو توڑنے والی آمرانہ قوتوں کے سامنے کبھی نہیں چلا ۔انہوں نے کہا کہ ہم دینی اقدار کے تحفظ کے لیے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم کو فعال دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اس موقع پر علامہ محمد شفیق خاں پسروری، مولانا عبدالستار حامد، حاجی عبدالرزاق ، حاجی نذیر انصاری، مولانا عبدالباسط شیخوپوری، حافظ محمد یونس آزاد ،، مولانا نعیم بٹ، ڈاکٹر عبدالغفورراشد، حافظ عبدالحمید ازہر،مولانا حنیف ربانی ، مولانا عمران عریف، رانا خلیق خاں پسروی، حافظ شریف، قاری صہیب میر محمدی، حافظ مسعود عالم،قاری عبدالتمین اصغر، رانا نصراللہ خاں، امتیاز مجاہد، انعام الرحمن یزدانی، حافظ آصف مجید، فیصل افضل شیخ، عثمان شاکرمفتی عبید اللہ عفیف،علامہ معتصم الہی ظہیر، حافظ محمد علی یزدانی، حافط ہشام الہی ظہیر، پروفیسر ثناء اللہ بھٹی، شیخ سلیم الرحمن، حافظ محسن جاوید ،شیخ عدنان سرور ،حافظ عابد الہی، مولانا اسداللہ سبحانی، قاری تاج شاکر، مولانا اصغر فاروق ، قاری عنایت اللہ ربانی ودیگر بھی موجود تھے۔