نا اہل و کمینے کی خوشامد سے اگر ! ۔۔۔ نواز شریف کا صبر ختم ، بہت کچھ کہہ ڈالا ۔۔۔ کیا یہ پیغام اپنے خوشامدیوں کے لئے تھا

سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کے مسلم لیگ (ن) کے صدر منتخب ہونے کے بعد جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کے دور ان اشعار سنائے اور کہاکہ دل میں غصہ ہے یہ نہ کہوں تو منافقت ہے۔ پارٹی صدر منتخب ہونے کے بعد سابق وزیراعظم نوازشریف نے جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہاکہ لگتا ہے آج شعروں اور شاعروں کی محفل ہے ٗشہباز شریف نے اچھے شعر سنائے اور سعد رفیق نے جواب میں شعر سنائیں مجھے بھی ایک شعر یاد آیاہے ۔ سابق وزیر اعظم نے شعر پڑھا، دل بغض و حسد سے رنجور نہ کر، یہ نور خدا ہے اسے بے نور نہ کر، نااہل و کمینے کی خوشامد سے اگر، جنت بھی ملے تجھے تو منظور نہ کر، اپنی تقریر کے دور ان سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ دل میں غصہ ہے یہ نہ کہو ں تو منافقت ہے ٗمجھے منافقت آتی نہیں ٗمیں منافقت سے نفرت کرتا ہوں ۔

سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے متنبہ کیا ہے کہ حالات کو بدلنے کی کوشش کی نہ گئی تو پاکستان ہمیں کبھی معاف نہیں کریگا۔ سقوط ڈھاکہ سانحہ سے کچھ نہیں سیکھا ہمیں آگے کی طرف دیکھناچاہیے، پاکستان اور عوام کی خاطر ہمیں نفرتوں، الزامات اور تصادم کا کلچر ختم کر نا ہوگا، ملک کو ایٹمی قوت بنانے والے کو نا اہل قرار دیدیا گیا، وزرائے اعظم کو ملک بدر اور اقتدار سے نکالا گیا، آمروں کی غیر مشروط وفاداری کے حلف اٹھائے گئے، آئین کی خلاف ورزی کرنے والے صادق بھی رہے امین بھی رہے، کاش عوام کے حق حکمرانی کیلئے بھی کوئی نظریہ ضرورت ایجاد کرلیا جاتا۔ ستر سال سے ملک میں کھیل تماشا ہورہا ہے اس بات کی تحقیق کرلیں کہ وزارت عظمیٰ کی تنخواہ لیتا ہوں یا نہیں ٗشاید کوئی اور فرد جرم بھی مل جائے، بار بار سیاست سے بے داخل کر نے کی کوشش کی جاتی رہی، کارکن مجھے بار بار واپس لاتے رہے ٗان ارکان اسمبلی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے آمر کا قانون اس کے منہ پر دے مارا، حق حاکمیت زمین پر عوام کی امانت ہے اس میں خیانت کا سلسلہ بند ہو نا چاہیے ۔ اقتدار میں داخل ہونے اور باہر جانیوالے دروازوں کی کنجی عوام کے پاس ہونی چاہیے نا اہلی اور اہلیت کا فیصلہ عوام 2018 میں کر ینگے ۔

منگل کو کنونشن سینٹر میں پارٹی صدر منتخب ہونے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہاکہ سعد رفیق نے اپنی گفتگو میں کہا تھا کہ نوازشریف کو سیاست سے بے دخل کر نے کی بار بار کوشش ہوتی رہی میں سوچ رہا تھا کہ میں بھی کیا چیز ہوں، مجھے سیاست سے بار بار بے داخل کر نے کی کوشش کی جاتی رہی اور آپ بار بار داخل کرواتے رہے آج بھی اللہ کے فضل وکرم سے پھر مجھے داخل کررہے ہیں ۔ نوازشریف نے کہاکہ لگتا ہے آج شعروں اور شاعروں کی محفل ہے، شہباز شریف نے اچھے شعر سنائے اور سعد رفیق نے جواب میں شعر سنائیں مجھے بھی ایک شعر یاد آیاہے ۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ دل بغض و حسد سے رنجور نہ کر یہ ،نور خدا ہے اسے بے نور نہ کر نا اہل و کمینے کی خوشامد سے اگر جنت بھی ملے تجھے تو منظور نہ کرسابق وزیر اعظم نوازشریف نے کہاکہ میں منافت نہیں کرتا ٗیہ اصول صرف میرا نہیں ٗپوری مسلم لیگ (ن) کا ہونا چاہیے۔ آج کی جنرل کونسل کا یہی اصول ہونا چاہیے مسلم لیگ (ن) کے کارکن کا بھی یہی اصول ہو نا چاہیے پھر انشا ء اللہ اپنی اپنی منزل حاصل کر ینگے یہ اصول اپنے دل کے اندر بٹھالیں پھر انشاء اللہ فتح حاصل ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ آج وہ قانون دوبارہ پرویز مشرف کو لوٹا رہے ہیں جس نے نوازشریف کا راستہ بند کر نے کیلئے اختیار کیا یہ قانون ایوب خان نے نافذ کیا تھا اور پھر مشرف نے نافذ کیا آج پھر ہم اسے واپس لو ٹا رہے ہیں آپ سب ٗقومی اسمبلی میں تمام لوگوں تمام کارکنوں قومی اسمبلی کے ممبران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے یہ قانون دوبارہ اس کے منہ پر مارا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تم بے دخل کرتے جاؤ یہ عوام نوازشریف کو دوبارہ داخل کر تے جائیں گے ۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ آج آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ٗآپ بھرپور قوت کے ساتھ نوازشریف کو واپس لا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کا کرم ہے ہم نے خلوص کے ساتھ ملک کی خدمت کی ہے اور کوئی لالچ نہیں ہے اور کسی قسم کا الحمد اللہ غلط کام نہیں کیا، آپ جانتے ہیں مجھے نا اہل کیا گیا ہے تو اس کی کیا وجہ ہے ؟ یہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں آپ نے مجھے بہت بڑے اعزاز سے نوازا ہے ٗ70 برس کے نشیب و فراز اور ہر طرح کے حربوں کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی اور مقبول جماعت ہے، لاکھوں نوجوانوں بچوں بہنوں کا کس منہ سے شکریہ ادا کروں جو میرے چار دن کے سفر میں میر ے ساتھ رہے اور مجھے ملے اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ میر ے پاس الفاظ نہیں کہ ان کا کس طرح شکریہ ادا کروں ٗان کیلئے دعا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ مسلم لیگ (ن) کی قوت کو پاکستان کیلئے کچھ کر نے کی توفیق عطا فرمائے ۔

انہوں نے کہاکہ یہ پاکستان کے بڑے اعزاز والے شہری بنیں اس ملک کی خدمت کریں اور اپنا حصہ ڈالیں انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان آزاد کشمیر فاٹا وفاق کی مضبوط کی علامت ہیں ٗ بلوچستان ٗ سندھ ٗ پنجاب ٗ خیبر پختون سے آئے ہوئے لوگ یہاں بیٹھے ہیں یہاں بھرپور نمائندگی ہے، یہاں آپ نے مجھے اعزازا سے نوازاہے اللہ تعالیٰ مجھے بھاری ذمہ داری اٹھانے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ مشکلات اور پریشانیوں کا جواں مردی کے ساتھ مقابلہ کر نے کی توفیق عطا فرمائے۔ میں وطن عزیز کی سلامتی اور عوام کی خوشحالی کیلئے دعا کرتا رہتا ہوں انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ نے مشکل حالات میں آزادی کی جنگ لڑی اور جیتی اسے کیسی کیسی قوتوں سے لڑنا پڑا لیکن مشن اور سچ کے سامنے کوئی قوت نہ ٹھہر سکی، پاکستان ایک حقیقت بن کر ابھرا، ابھی ڈیڑھ ماہ قبل آزادی کی 70 ویں سالگر ہ منائی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ آج پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت کی حیثیت سے ایک مضبوط اور توانا ملک کی حیثیت سے قائم ہے۔ نوازشریف نے کہاکہ جو ایٹمی قوت بناتے ہیں ملکوں میں ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے، پھانسیاں دی جاتی ہیں، ملک بدر کیا جاتا ہے، ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں، پاناما نہیں اقامہ پر وزیر اعظم کو نکال دیا جاتا ہے ۔

سابق وزیراعظم نے کہاکہ اگر پاناما میں کچھ نہیں ملاتھاتو قوم کو صاف صاف بتا دیتے ہمیں پاناما میں کچھ نہیں ملا ہم اقامے پر نا اہل کر نے لگے ہیں، قوم سے سچ بولنا چاہیے تھا، قوم سے صاف صاف بات کر نی چاہیے کہ ہاں نوازشریف نے ایک پیسہ بھی نا جائز طریقے سے نہیں کمایا اور سر کاری رقم میں خورد برد نہیں کی، رشوت، خورد برد کا کیس نہیں ہے ، پاناما آیا تھا لیکن اس میں کچھ نہیں ہے، لیکن ہمارے پاس اقامہ ہے ۔ نوازشریف نے کہاکہ اقامہ ہے اور ہم اقامہ پر نوازشریف کو نکال رہے ہیں ۔نوازشریف نے کہاکہ یہ ملک کیسے چلے گا ، ستر سال سے یہی کچھ ہوتا رہا ہے ، یہ کھیل تماشا ستر سالوں سے ہوتا آیا ہے اور آج بھی ہورہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیشہ ملک کو قائم و دائم رکھے لیکن اس حقیقت کو ہر گز نہیں بھولنا چاہیے کہ آزادی ایک قیمت مانگتی ہے ، دنیا کی اقوام میں سر بلند ہو کر جینا ہے تو ہمیں اس کی قیمت دینے کیلئے بھی تیار رہنا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ آزادی تدبر، حکمت سے ملتی ہے۔ آزادی کے تحفظ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے ماضی پر نظرڈالیں ، اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیا اور غور کریں وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے آدھا ملک گنوا بیٹھے ہیں ۔ غور کیا جائے کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے ملک بحرانوں کا شکار ہوتا رہا، وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے آس پاس کے آزاد ہونے والے ممالک سے کوسوں پیچھے رہ گئے ۔

سابق وزیر اعظم نوازشریف نے کہاکہ دنیا کی ساری زندہ قومیں بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ جائزہ لیتی ہیں اور اپنا گھر ٹھیک کرتی رہتی ہیں اپنی پالیسی بدلتی اور حکمت عملی تبدیل کرتی رہتی ہیں جو قومیں بدلتے تقاضوں کو نظر انداز کرتی ہیں اور اپنی پرانی روش پر اڑی رہتی ہیں وقت ان کا انتظار کئے بغیر آگے نکل جاتا ہے ۔ نوازشریف نے کہاکہ ہمارے قومی زندگی میں بہت سے مرحلے آئے ، ہم اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں اور اپنے طرز یعنی پرانے طور طریقے پر اڑے رہنے کی بجائے نئے حالات اور نئے تقاضوں سے رہنمائی لیتے لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا ، سقوط ڈھاکہ جیسے سانحات قوموں کو ہلاکر رکھ دیتے ہیں ، کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ہم سقوط ڈھاکہ کے بعد بھی وہی کچھ کرتے رہیں جو سقوط ڈھاکہ سے پہلے کرتے رہے ہیں۔ ہم نے اتنے بڑے سانحہ سے بھی کچھ نہیں سیکھا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی مقبول جماعت کا سربراہ ہوتے ہوئے اور تین بار وزیر اعظم بننے کے بعد مجھے عوام کی نمائندگی سے نا اہل قرار دیدیا گیا ۔ یہ کسی کرپشن یا بد عنوانی کے جرم میں نہیں اس جرم میں کہ نوازشریف نے اپنے بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی ؟لہذا نوازشریف نا اہل ۔ سابق وزیراعظم نوازشریف نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کسی ملک میں ایسا ہوتا ہوا دیکھا ہے ؟ ایسا ہوتے سنا ہے؟

انہوں نے کہاکہ وہ اس بات کی تحقیق کرلیں کہ وزارت عظمیٰ کی تنخواہ لیتا ہوں یا نہیں، شاید کوئی اور فرد جرم بھی مل جائے ، میں نے وکلاء کے کنونشن میں بارہ سوالات کئے تھے ان میں سے ایک کا جواب بھی نہیں ملا ۔ انہوں نے کہاکہ آپ جانتے ہیں کہ مولوی تمیز الدین کیس سے بے نظیربھٹو کیس کے حالیہ فیصلے تک کیسے کیسے فیصلے سامنے آئے ان فیصلوں میں میرا عظیم فیصلہ بھی شامل ہے کیونکہ میں نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی تھی اور میں صادق اور امین نہیں رہا اور مجھے نا اہل کر دیا گیا ۔ سابق وزیراعظم نے کہاکہ ایسے ہی فیصلے سے وزیر اعظم کو پھانسی چڑھا دیا گیا، وزرائے اعظم کے بارے میں فیصلوں کی لمبی قطار یں ہیں ، وزرائے اعظم کو اقتدار سے بے دخل کیا گیا، لیکن چاروں آمروں کی آئین شکنی کو ناجائز قرار نہیں دیا گیا بلکہ آمروں کی غیر مشروط وفاداری کے حلف اٹھائے گئے آئین کی خلاف ورزی کرنے والے صادق بھی رہے امین بھی، آمروں کے 33 سالہ اقتدار میں آرٹیکل (3)184 کے تحت کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، ان کے غیرآئینی کاموں کا کوئی جواز نہ ملا تو نظریہ ضرورت کو ایجاد کیا گیا، کاش کوئی نظریہ ضروریات عوام کے حق حکمرانی کے لیے بھی ایجاد کرلیا جاتا ، کاش کوئی نظریہ ضرورت عوام کے حق حکمرانی ، پاکستان اور عوام کیلئے ایجاد کر لیا جاتا ہے۔ یہ ستر سالہ تاریخ ہے جو خود بتا رہی ہے ہمارا مسئلہ کیا ہے ، اس مسئلے نے ہمیں کس حال سے دو چار کر دیا ہے ، آج بھی ہم نے اپنے آپ کو سنبھالنے اور حالات کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو پاکستان کبھی معاف نہیں کریگا۔

انہوں نے کہاکہ میں تنبیہ کررہا ہوں کہ ہم نے حالات کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو پاکستان بھی ہمیں معاف نہیں کریگا ؟ کیا ان حالات کو بدلنے کی کوشش کرینگے اللہ تعالیٰ انہی قوموں کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتی رہیں ۔ اس موقع سابق وزیر اعظم نوازشریف نے شعر پڑھا کہ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے اس مقصد کیلئے قومی مکالمے کی پیش کی ہے، عوام کا حق حکمرانی بحال کیا جائے ، حق حاکمیت زمین پر عوام کی امانت ہے اس میں خیانت کا سلسلہ بند ہو نا چاہیے ،حکومت وہی کرے جسے عوام ووٹ دیں ، اقتدار میں داخل ہونے اور باہر جانیوالے دروازوں کی کنجی عوام کے پاس ہونی چاہیے ، وہی فیصلہ کریں ، منتخب نمائندے صرف عوام کے سامنے جوابدہ ہوں۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ میں اقتدار نہیں اقدار کی سیاست پر یقین رکھتا ہوں ، قانون کی حکمرانی ، جمہوری نظام کے ا ستحکام کیلئے ہم سب ایک ہو جائیں اور اسی جذبے کے تحت میں نے اور بے نظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے۔ اسی جذبے کے تحت 2008 کے بعد پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کا احترام کیا ، عدلیہ کی بحالی کیلئے حکومت چھوڑی ، آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف قرار داد رو ک دی ، پہلی مرتبہ صدر زر داری کو عشائیہ دیا۔

ہم نے کسی کے مینڈیٹ میں کوئی رخنہ نہیں ڈالا ، کے پی کے میں مخلوط حکومت بنانے کی بجائے پی ٹی آئی کو مکمل آزادی دی اور حکومت کر نے کا موقع فراہم کیا ۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ جمہوریت کی مضبوطیکا یہی راستہ ہے ، سیاستدانوں سے بھی غلطی ہوتی ہے ، سیاسی جماعتیں بھی ٹھوکریں کھاتی ہیں۔ لیکن ان غلطیوں کو نظیر بنا لینے سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے، ہمیں آگے کی طرف دیکھناچاہیے پاکستان اور عوام کی خاطر ہمیں نفرتوں ، الزامات اور تصادم کا کلچر ختم کر نا ہوگا ۔ ہم نے وطن عزیز کی ہر ممکن خدمت کر نے کی کوشش کی اللہ کے فضل وکرم سے آج کا پاکستان 2013 کے پاکستان سے بہتر ہے ، کہیں زیادہ روشن ، مضبوط اور توانا ہے۔

لوڈشیڈنگ آخری ہچکیاں لے رہی ہے ، سی پیک ملک کی تقدیر بدلنے جارہا ہے پاکستان زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھ رہا تھا ، غیر ملکی ادارے بھی تعریف کررہے تھے لیکن حالیہ فیصلہ اور ان کے نتیجے میں ہونے والی کارروائیوں نے منفی نتائج مرتب کئے ہیں، یہ دکھ اور افسوس کی بات ہے ۔ ایسے فیصلوں اور منفی کارروائیوں کی کتنی بھاری قیمت ادا کر نا پڑتی ہے ، ہمارے لئے تسکین اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے عوام ہمارے ساتھ ہیں ، مئی 2013 سے لیکر لاہور کے حلقہ 120میں انتخاب تک ہر مرحلے میں عوام نے ہمارا انتخاب کیا ہے۔ انشاء اللہ 2018ء میں 2013 کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) بڑی کامیابی حاصل کریگی اور ہم اس عزم کو جاری رکھیں گے ۔ 2018 میں عوام ووٹ کے ذریعے فیصلہ سنائیں گے اہل کون ہے اور نااہل کون ہے ؟ خدا کرے یہ ملک پھلتا پھولتا رہے ، بجلی کے منصوبے مکمل ہوتے رہیں ، ملک کے اندھیرے دور ہوتے رہیں ، موٹر وے مکمل ہوتی رہے ، ہزارہ موٹر وے مکمل ہوتی رہے ، بلوچستان میں ہائی ویز بنتی رہیں۔ کراچی امن کا گہوارہ بنتا رہے ، دہشتگردی دم توڑ تی رہے، کچی کینال زمینوں کو آباد کرتی رہے ، فاٹا ترقی کرتا رہے ، لواری ٹنل بھی کامیاب رہے اور خدا کرے آپ کا سی پیک بھی آباد رہے ، خدا کرے آزاد کشمیر میں ترقی کی رفتار اور تیز ہو جائے ، کراچی موٹر وے بھی مکمل ہو جائے ۔