حدیبیہ پیپرز مل کیس: شیخ رشید کا نیب کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ممکنہ طور پر حدیبیہ مل کیس میں اپیل دائر نہ کرنے پر عوامی مسلم لیگ کے چیئرمین شیخ رشید نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔ شیخ رشید نے عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی کہ عدالت نیب کو اپیل فائل کرنے کی یقین دہانی پرعملدرآمد کا حکم دے اور اپیل دائرنہ کیے جانے کی صورت میں چیئرمین اور پراسیکیوٹر نیب کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ حدیبیہ مل کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں شیخ رشید نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے 21 جولائی کو ایک ہفتے میں اپیل دائر کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی اور عدالت نے نیب کی اس یقین دہانی کو اپنے فیصلے میں بھی تحریر کیا تھا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ 7 دن گزرنے کے بعد چیئرمین نیب کو یقین دہانی سے متعلق نوٹس بجھوایا گیا تاہم انہوں نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق نیب نے اپیل دائر نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جبکہ چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل غیرجانبدارانہ کام کے پابند ہیں۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے حدیبیہ ملزکیس کی تفصیلی تحقیقات کیں اور اس تحقیقات کے مطابق نواز شریف اور اسحٰق ڈار منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے جبکہ شریف خاندان کے دیگر افراد نے بھی متعلقہ منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھایا۔

ان کا موقف تھا کہ جے آئی ٹی نے ملزمان کے خلاف ناقابل تردید شواہد پیش کیے، جس کے مطابق منی لانڈرنگ ستمبر 1991 سے ہی شروع ہوگئی تھی۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ 2 ارب 23 کروڑ 80 لاکھ (2238 ملین) ڈالر نیشنل بینک کے صدر سعید احمد اور مختار حسین کے اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے جبکہ 1993 سے 95 کے دوران مزید 35 لاکھ ڈالر لندن منتقل کیے گئے۔ شیخ رشید نے اپنی درخواست میں الزام لگایا کہ چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل ملزمان کے زیر اثر ہیں اور اپیل دائر نہ کرکے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد میں رکاوٹیں پیداکی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے اس معاملے کا نوٹس نہ لیا تو منی لانڈرنگ کی تحقیقات نہ کرنے کی سازش کامیاب ہوجائے گی۔ خیال رہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس سابق وزیراعظم نواز شریف کے اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کا احاطہ کرتا ہے. اکتوبر 1999 میں فوجی بغاوت کے بعد ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کے خاندان کو کرپشن کے 3 ریفرنسز میں ملوث کیا تھا جن میں سے ایک حدیبیہ پیپر ملز کیس تھا، تاہم 2014 میں احتساب عدالت نے اس ریفرنس کو خارج کردیا تھا۔