سابق صدر آصف زرداری اثاثہ جات ریفرنس میں بری

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کو اثاثہ جات ریفرنس میں بری کردیا گیا۔ آصف علی زرداری پر غیر قانونی اثاثے بنانے کا الزام تھا جس کا ریفرنس سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں احتساب عدالت میں دائر کیا گیا تھا۔
آج راولپنڈی کی احتساب عدالت نے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری کی اثاثہ جات ریفرنس میں بریت کی درخواست منظور کرلی۔ احتساب عدالت نمبر ایک کے جج خالد محمود رانجھا نے بریت کی درخواست منظور کی جب کہ اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ نیب نے جو ریفرنس دائر کیا اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف نے سربراہ احتساب بیورو سیف الرحمان کے ذریعے ریفرنس دائر کیا تھا، سابق صدر کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس احتساب ایکٹ 1997 کے تحت 1998 میں قائم کیا گیا جس میں ان پر ناجائز اثاثے بنانے کا الزام لگایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نظرثانی درخواست کی سماعت پر نیب پراسیکیوٹر کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے اور کیس میں 40 گواہوں پر جرح کی گئی جو تمام کے تمام جھوٹے ثابت ہوئے جب کہ نیب کے تحقیقاتی افسر نے تسلیم کیا کسی شوگر مل میں زرداری کا کوئی شیئر نہیں ہے۔
واضح رہے کہ سابق صدر کے خلاف نیب نے 1998 میں ریفرنس نمبر 14 دائر کیا تھا جس میں انہیں سیکیورٹی وجوہات کے بنا پر عدالت حاضری سے استثنا حاصل تھا۔