دُبئی میں انتہائی پریشان حال اور مصیبت زدہ پاکستانی کی قسمت کھُل گئی

دُبئی (اُردو نیوز) دُنیا بھرکو سال 2020ء کے دوران کورونا کی وبا کا سامنا رہا۔ جس دوران لاک ڈاؤن اور کاروباری بحران نے بڑے بڑے امیر لوگوں کو ڈبو دیاجبکہ مڈل کلاس اور غریب طبقہ بھی مزید بدحالی اور پریشانی کا شکار ہو گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں بھی لاک ڈاؤن کے دوران50 ہزار سے زائد پاکستانی بے روزگار ہو کر وطن لوٹ آئے۔

جبکہ ہزاروں ایسے بھی تھے جو وہیں پر مقیم رہے، مگر انہیں کئی بار فاقے بھی کاٹنے پڑے اور انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ دُبئی میں مقیم پاکستانی ظہیر عباس پر بھی پچھلے چند ماہ انتہائی بھاری گزرے تھے، تاہم اس کی خراب قسمت یکایک پلٹا کھا گئی ہے۔ ظہیر عباس کے پاس ڈیوٹی فری کی ٹکٹ خریدنے کے لیے بھی رقم موجود نہ تھی، تاہم اس نے خود کو تنگی میں ڈال کر اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا، جو اس کے لیے اتنا بہترین ثابت ہوا کہ اس کی زندگی بھر کی پریشانیاں خوشحالی میں بدل گئی ہیں۔

گزشتہ روز دُبئی ڈیوٹی فری کی قرعہ اندازی ہوئی جس میں 36 سالہ ظہیر عباس کی خریدی گئی ٹکٹ نمبر 0554 کو ایک لگژری موٹر سائیکل Aprilia Tuono Factory (Nero Opaca) کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے، جس کی مالیت ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ زندگی کے مایوس ترین لمحات سے گزرنے والے ظہیر کی خوشی اس وقت دیکھنے لائق ہے۔ اس نے خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا ”میں نے یہ ٹکٹ 15 جنوری کو فائنسٹ سرپرائز سیریز نمبر 440کے تحت خریدی تھی۔

میں گزشتہ 14 سال سے دُبئی میں روزگار کی غرض سے رہائش پذیر ہوں۔ گزشتہ روز میں دُبئی ڈیوٹی فری کی قرعہ اندازی فیس بُک پیج پر لائیو دیکھ رہا تھا جب اچانک میری خریدی گئی ٹکٹ نمبر 0554 کو لگژری موٹر سائیکل کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ مجھے پہلے تو اپنی قسمت پر یقین ہی نہیں آیا اور پھر مجھے احساس ہوا کہ ایسا ہو چکا ہے جس کے بعد میں خوشی سے جھوم اُٹھا۔ اس مشکل وقت میں یہ لگژری بائیک جیتنا میرے لیے بہت بڑی امداد ہے۔ اس بائیک کو فروخت کرنے کے بعد اس سے حاصل ہونے والی رقم میرے لیے خاصا بڑا سرمایہ ثابت ہو گا۔ “ ظہیر عباس شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ ہے۔