اسرائیل نے دوبئی , تل ابیب پروازوں کے لیے سعودی عرب سے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت مانگ لی

تل ابیب (اردو نیوز) اسرائیلی وزیر اعظم بنیامنن نیتن یاہو نے اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان فلائٹس کے لیے سعودی عرب سے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل متحدہ عرب امارات اور تل ابیب کے درمیان براہ راست ہوائی پرواز شروع کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے جو سعودی عرب کی فضائی حدود سے گزرے گی .

انہوں نے کہا ہمیں یقین ہے کہ سعودی عرب تل ابیب سے دبئی کے درمیان براہ راست پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دیدے گا مجھے پورا یقین ہے کہ ریاض کے ساتھ ہمارا معاہدہ طے پا جائے گا انہوں نے کہا یہ اسرائیلی ہوا بازی کی صنعت اور اسرائیلی معیشت کو بدل کر رکھ دے گا کیونکہ” فریقین“ کو سیاحت اور زبردست سرمایہ کاری کا موقع ملے گا.

اماراتی نیوز چینل سکائی نیوز عربیہ کو خصوصی انٹرویو میں انہوں نے ان وجوہات کا ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے یہ معاہدہ ممکن ہو سکا اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے سے اسرائیلی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا. گذشتہ دنوں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ایک خصوصی معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت اسرائیل نے مقبوضہ غرب اردن کے کچھ حصے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے عمل کو فوری طور پر روک دیا ہے سکائی نیوز عربیہ کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے خیال ظاہر کیا ہے کہ دوسرے عرب ممالک بھی اس معاہدے کی طرف بڑھیں گے.

نتن یاہو نے کہا کہ ٹرمپ حکومت نے ان سے کہا ہے کہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت امن کا فروغ ہے اور کہا ہے کہ غرب اردن میں جاری کام کو روکا جائے انہوں نے کہا یہ امریکی درخواست تھی کہ اسرائیلی قانون کو کچھ عرصے کے لیے نافذ کرنا روک دیا جائے اور ہم اس پر راضی ہوگئے امریکیوں نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ امن کے ماحول کو پھیلانا چاہتے ہیں اور اس وقت ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے کہ امن کو آگے بڑھایا جائے.

نتن یاہو نے اس پورے انٹرویو کے دوران انگریزی میں بات کی لیکن ان کی گفتگو کو عربی میں ڈب کر کے دکھایا گیا ہے ادھرامریکی صدر کے مشیر اور داماد جیریڈ کشنر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کچھ وقت کے لیے مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر قبضہ کرنے کی پالیسی پر اسرائیل کی حمایت نہیں کرے گا انہوں نے کہا اسرائیل ہمارے ساتھ اس بات پر راضی ہوا ہے کہ وہ ہماری رضامندی کے بغیر آگے نہیں بڑھے گا کچھ مدت کے لیے ہم اس بارے میں اسرائیل کی حمایت نہیں کریں گے کیونکہ اس وقت ہماری توجہ نئے امن معاہدے پر عمل درآمد کروانے پر ہے.

نتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کی تعریف کی اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دوسرے عرب ممالک بھی اس سمت میں اقدامات کریں گے اور اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کریں گے‘نتن یاہو نے کہا کہ اس معاہدے سے دونوں ممالک کو بہت فائدہ ہوگا اور اسرائیل متحدہ عرب امارات کے فری زون علاقوں سے درآمد کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہا ہے. متحدہ عرب امارات میں فری زون وہ علاقے ہیں جہاں غیر ملکی کمپنیاں آسان قواعد کے ساتھ کام کر سکتی ہیں اور جہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو کمپنیوں کے مکمل مالکانہ حق لینے کی اجازت ہے‘اس معاہدے کو مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے نتن یاہو نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ یہ معاہدہ بالآخر فلسطین کے عوام کے ساتھ امن کی سرزمین ہموار کرے گا.

نتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کو جمہوریت قرار دیا جبکہ فریڈم ہاﺅس کے مطابق متحدہ عرب امارات جمہوریت کے لحاظ سے دنیا کے سب سے کم آزاد ممالک میں سے ایک ہے. نتن یاہو نے کہا یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کو ساتھ لے کر آئے گا دونوں ممالک جمہوریت پسند ہیں اور بہت ترقی یافتہ ہیں‘اسرائیل کے سعودی عرب کے ساتھ باضابطہ تعلق نہیں ہے اور اسرائیلی طیاروں کو سعودی عرب کی فضائی حدود میں اڑنے کی اجازت نہیں ہے تاہم کچھ معاملات خصوصاً سلامتی کے حوالے سے دونوں ممالک کے مابین تعاون کی اطلاعات آتی رہتی ہیں.

نتن یاہو نے کہامتحدہ عرب امارات اسرائیل کے ٹیکنالوجی سیکٹر میں زبردست سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے فری زون میں تیار کردہ سستا سامان بھی اسرائیلی صارفین کو دستیاب ہوگا انہوں نے کہا اسرائیلی معیشت اس سے جو فائدہ حاصل کرے گی اس کا فائدہ ہر شہری کو ہوگا.