سعودی شہزادہ عبدالعزیز بن عبداللہ انتقال فرما گئے

ریاض(اُردو نیوز) گزشتہ روز قبل سعودی شہزادہ عبدالعزیز بن عبداللہ بن فیصل بن فرحان السعود انتقال فرما گئے۔ جن کی نماز جنازہ آج نماز عصر کے بعد ریاض کی تُرکی بن عبداللہ مسجد میں ادا کی جائے گی۔ جس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا جائے گا۔ مرحوم شہزادہ عبدالعزیز بن عبداللہ بن فیصل بن فرحان السعود کی نماز جنازہ میں شاہی خاندان کی اہم شخصیات کے علاوہ زندگی کے مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھی بڑی گنتی شریک ہو گی۔

مرحوم شہزادہ عبدالعزیز بن عبداللہ1355ہجری سے 1366ہجری تک قصیم ریجن کے امیر رہے۔ اس کے بعد 1374ء سے 1376ء تک انہیں نیشنل گارڈ کی سربراہی سونپی گئی۔ شہزادہ عبدالعزیز کے دس بھائی اور 6بہنیں بھی ہیں۔ شہزادہ عبدالعزیز کی وفات پرمتحدہ عرب کے امارات کے صدرشیخ خلیفہ بن زایدکے علاوہ، دُبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم اور ولی عہد کی جانب سے سعودی فرمانروا اور ولی عہد کو تعزیت کا پیغام بھیجا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی سعودی شاہی خاندان کو ایک اہم رُکن کی وفات کا صدمہ برداشت کرنا پڑا تھا۔ سعودی شہزادہ طلال بن سعود بن عبدالعزیز 26فروری کو انتقال کر گئے تھے، اُن کی نماز جنازہ گزشتہ روز نماز عصر کے بعد ریاض کی تُرکی بن عبداللہ مسجد میں ادا کی گئی تھی۔جس میں سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان بھی شریک ہوئے۔

جس کے بعد شہزادہ طلال بن سعود کی تدفین ریاض کے شاہی قبرستان العود میں کی گئی۔ شہزادہ طلال بن سعود، سابق فرمانروا شاہ سعود کے اکیسویں بیٹے تھے۔وہ 1952 میں سعودی دارالحکومت ریاض میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 25 برس تک انتظامی امور کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔ شہزادہ طلال باسکٹ بال کی سعودی آرگنائزیشن اور باسکٹ بال کی خلیجی آرگنائزیشن کے چیئرمین بھی رہے۔

انہوں نے اپنے لواحقین میں پانچ بیٹے اور بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ شہزادہ طلال بن سعود بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد متحدہ عرب امارات کے کے نائب صدر اور وزیراعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم، ابوظہبی کے شیخ خلیفہ بن زید النہیان اور دیگر نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے نام پیغام میں تعزیت کی اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔