سعودی حکومت نے مقامی خواتین کو شاندار خبر سُنا دی گئی

ریاض (اُردو نیوز) وزارت محنت و سماجی بہبود کی جانب سے سعودی خواتین کو خوشخبری دی گئی ہے کہ اگلے تین سال کے دوران 9 ہزار سعودی خواتین کو ڈرائیونگ اسکولز میں بھرتی کیا جائے گا۔ اس حوالے سے نائب وزیر برائے محنت و سماجی بہبود عبداللہ ابو ثنین نے ہیومن ریسورسز ڈویلپمنٹ فنڈ (ہدف) کے ٹریننگ سپورٹ پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل جمعہ حامد کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

سعودی پریس ایجنسی کی خبر کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ 2022ءتک ڈرائیونگ اسکولوں میں خواتین کے لیے نو ہزار ملازمتیں تخلیق کی جائیں گی۔ 2019ءمیں حیل، احرار، نجران، جزان، مکہ، مدینہ، الجوف اور ابہا میں خواتین کے لیے قائم آٹھ ڈرائیونگ اسکولز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ ان اسکولز میں خواتین کو ڈرائیونگ کی تربیت دینے کے لیے خواتین ہی بھرتی کی جائیں گی۔

اس وقت بھی بہت سی خواتین مملکت کے کئی ڈرائیونگ اسکولز میں خواتین کو ڈرائیونگ سکھا رہی ہیں۔ قانون کے مطابق 18 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے اپلائی کر سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال 24 جُون کو سعودی خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی ایک شاہی فرمان کے ذریعے ہٹا لی گئی تھی۔

تقریباً چار دہائیوں پر عائد پابندی ہٹنے سے مملکت بھر کی لاکھوں خواتین نے بے انتہا خوشی کا اظہار کیا تھا۔ اس وقت مملکت میں ہزاروں خواتین خود اپنی گاڑیاں ڈرائیو کرتی دکھائی دیتی ہیں جبکہ اُوبر کی جانب سے خواتین کے لیے ایسی کار سروس بھی مہیا کی جا رہی ہے جس میں خواتین ہی ڈرائیورز ہوتی ہیں۔