بھارت منہ دیکھتا رہ گیا۔۔۔ایرانی صدر نے گوادر بندرگاہ کو چاہ بہار سے ملانے کی خواہش ظاہر کردی، دورہ پاکستان کی دعوت بھی قبول

تہران (ویب ڈیسک) ایرانی صدر نے گوادر بندرگاہ کو ریل کے ذریعے چاہ بہار سے ملانے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس وقت ایران کے دورہ پر ہیں۔انہوں نے ایرانی صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کر لی۔ ایران نے پاکستان میں دہشت گردی کی ذمہ دار تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

پاکستان اور ایراننے اپنی سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہ ہونے دینے پر اتفاق کرتے ہوئے سرحد کے تحفظ کیلئے مشترکہ فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات پر کسی تیسرے ملک کو اثر انداز نہیں ہونے دیا جائیگا،پیر کو وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان ملاقات اور وفود کی سطح پرمذاکرات ہوئے جس کے بعد صحت کے شعبے میں پاکستان اور ایران تعاون کے اعلامئے پر دستخط کی تقریب ہوئے۔اعلامیے کی تقریب کے بعد وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرت ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے اہم معاملات سمیت خطے کو درپیش مسائل پر بات چیت ہوئی، پاکستان ایران کے تعلقات میں مزید وسعت پر بھی تبادلہ خیال ہوا ہے انہوں نے کہا کہ ملاقا ت میں سب سے اہم معاملہ جو گفتگو میں زیر غور آیا ہے ہے وہ یہ کہ دونوں ممالک برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو مستحکم کریں گے اور دونوں ممالک کے تعلقات پر کسی تیسرے ملک کو اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ملاقات میں سرحدی معاملات پر بھی گفتگو کی گئی ہے اور سرحدی محافظین اور سرحد کی حفاظت کیلئے جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس کے قیام پر بھی اتفاق ہوا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر بھی غور کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت پاکستان کی تیل اورگیس کی ضرورت پوری کرنے کیلئے تیار ہے اور اس ضمن میں پاکستانی سرحد کے ساتھ پائپ لائن کی تعمیر کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کیلئے بجلی کی برآمدات 10 گنا تک بڑھانے کیلئے تیار ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں پرتپاک استقبال پر ایرانی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے میں تعاون کو فروغ دینے اور اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے گا۔انہوں نے کہا کہ اچھے تعلقات اور تجارت بڑھنے سے دونوں ممالک میں خوشحالی اور روزگار بڑھے گا، خطے میں امن اور استحکام کی ضرورت ہے اس سے ہی تجارت بڑھے گی، یقین ہے کہ باہمی تجارت کے بڑھنے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا، باہمی تجارت کیلئے بارٹر کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا گیا ہے۔