مودی بتائیں بھارت کی فطرت جنگ ہے یا امن، گاندھی کا ملک چاہئے یا ان کے قاتل کا،بھارتی وزیراعظم پراپوزیشن کے تابڑ توڑ حملے

نئی دہلی(نیوزڈیسک) بھارت میں اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ، اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ مودی بتائیں بھارت کی فطرت جنگ ہے یا امن ، پارٹی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ کومہاتما گاندھی کا ملک چاہئے یا ان کے قاتل نتھو رام گوڈی کا ،دہلی کے وزیراعلیٰ کیجری وال کا

کہنا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی مودی کا الیکشن جیتنے کا ایک حربہ ہے ، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ مودی حکومت گزشتہ دو سال سے یا تو رام مندر کی تعمیر کے معاملے پر کشیدگی بڑھاتی ہے تو کبھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پیدا کردیتی ہے ، کانگریس کی رہنما و اپوزیشن اتحاد یو پی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہےکہ بھارتی وزیر اعظم ’’وکٹم کارڈ‘‘ کھیل رہے ، کانگریس رہنما پریانکا گاندھی نے مودی کے گجرات میں خطاب کرتے ہوئے عوام سے کہا کہ آپ کا ووٹ ایک ہتھیار ہے،اس کا صحیح استعمال کریں، اپریل مئی میں ہونے والے انتخابات کسی آزادی کی تحریک سے کم نہیں، آپ خود سوچیں ان لوگوں کے بارے میں جو آپ کے سامنے کھڑے ہوکر بڑی بڑی باتیں کرتے تھے کہاں ہیں وہ ملازمتیں جن کا انہوں نے دعویٰ کیا تھا؟ کہاں ہے خواتین کی وہ حفاظت جس کا اعلان کیا گیا تھا؟ یہ آپکا ملک ہے اسکی حفاظت آپ نے اپنے ووٹ کے صحیح استعمال کے ذریعے کرنی ہے، مقبوضہ کشمیر کی سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور نے کہا ہے کہ بھارت کو

پاکستان سے بات کرنی چاہیے اور مقبوضہ کشمیر میں سیاسی رہنماؤں کو پلوامہ حملے کے بعد بڑھنے والی کشیدگی کو کم کرنا چاہیے،بی جے پی کی سابقہ اتحادی کا کہنا تھا کہ مظاہرہ کرنے والے کشمیریوں پر جاری کریک ڈاؤن لوگوں کو بھارت سے مزید دور کرسکتا ہے، تفصیلات کے مطابق دہلی کے وزیراعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجری وال نے مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی سرجیکل اسٹرائیکس کے معاملے کو سیاست کی نذر کررہے ہیں اور یہ انہیں انتخابات میں کوئی مدد نہیں دے گا ،کانگریس رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ عوام یاد رکھیں کہ گاندھی کا بھارت وہ ہے جہاں محبت ہے جبکہ گوڈی کا بھارت وہ ہے جہاں نفرت پائی جاتی ہے، مودی نفرت اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں ،نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مقبوضہ جموںوکشمیرمیں متعینہ وقت کے اندر اسمبلی انتخابات نہ کرانے کو جمہوریت کیلئے دھچکا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ بہت غلط ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ مودی یہاں کچھ گڑبڑ کراکر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، نئی دہلی کشمیر میں آگ بھڑکانے والے

اقدامات سے باز رہے ،مودی کی تمام تر پالیسی ناکام ہو گئی ہیں ،کشمیر کے لوگ ہوشیار ہیں اور وہ مودی سرکار کی ان مذموم سازشوں کو ناکام بنا کر ہی دم لیں گے ،انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ میں سنتے تھے کہ اب لوگ اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے پاکستان کیساتھ تھوڑی بہت جنگ کریں گے جس سے یہ دکھائیں گے کہ ہم کرنے بڑے سورماہیں اور ان لوگوں نے ایسا ہی کیا لیکن اس کا خمیازہ ان کو بھگتا پڑ رہاہے، دنیا میں اب کشمیر کا مسئلہ اٹھنے لگاہے اور ساری دنیا جاگ گئی ہے کہ کشمیر کا کوئی معاملہ ہے، ہندوستان پریہ مودی صاحب کی ایک اور مہربانی ہے،انہوں نے کہاکہ یہ لوگ بڑے زور شور سے دکھانا چاہتے تھے کہ ہم پاکستان کو مار سکتے ہیں، وہ بھی لوگوں نے دیکھ لیا،ہم اپنا ہی جہاز کھو بیٹھے اور اپنے ہی لوگ مارے گئے، جبکہ ان کو معلوم تھا کہ کچھ ہونے والا ہے، تب کیوں نہیں کارروائی کی؟ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس سارے شور شرابے کو الیکشن ڈرامہ قرار دیتے ہوئے سوالیہ انداز میں کہا کہ مودی صاحب یہ بتائیں کہ جب چھتیس گڑھ میں 75سی آر پی ایف کے بہادر سپاہی مارے گئے، کیا اس وقت مودی صاحب وہاں گئے؟مگر آج الیکشن قریب ہیں ،اسی لئے پھول

بھی چڑھائے گئے اور سارے ہندوستان میں رویا بھی گیا، انہوں نے کہا کہ یہ کہتے ہیں ہم نے 300سے زیادہ لوگ ماردیئے، اگر ایسا ہوتا تو کیا دنیامیں شور نہیں اٹھا ہوتا؟ پاکستانی عدالتوں میں تو درخت گروانے کے معاملے داخل کروائے گئے، ان کا کہنا تھا کہ شکر کیجئے کہ ہمارا پائلٹ زندہ بچا اور صحیح سلامت گھر واپس لوٹا۔