انا للہ وانا الیہ راجعون: 18 سالہ نوجوان سعودی لڑکی نے دین اسلام سے بغاوت کرکے شرمناک نعرہ بلند کر دیا

جدہ (ویب ڈیسک) انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم نے بنکاک ائیرپورٹ پر پھنسی ایک سعودی لڑکی کو واپس نہ بھجوانے کا مطالبہ کیا ہے ، یاد رہے کہ اس لڑکی کو تھائی لینڈ میں داخلے کی اجازت نہیں ملی اور ائیرپورٹ حکام اسے سعودی عرب واپس بھجوا رہے تھے ۔18 سالہ مذکورہ لڑکی نے کہا ہے کہ ہے وہ اپنے خاندان سے الگ ہو کر آسٹریلیا جانا چاہتی تھیں لیکن تھائی لینڈ کے ایئرپورٹ پر سعودی حکام نے اس کا پاسپورٹ ضبط کر لیا ہے۔ اٹھارہ سالہ رهف محمد القنون نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ کویت گئی تھیں جہاں سے وہ دو دن پہلے اکیلی جہاز پر سوار ہو گئیں۔ وہ بنکاک سے آسٹریلیا جانا چاہتی تھیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے تھائی حکام سے مطالبہ کیا ہے ۔۔

کہ وہ مبینہ طور پر بنکاک ائیرپورٹ پر زیرحراست سعودی خاتون کو طے شدہ سعودی عرب واپسی روک دیں ۔ رھف محمد القنون نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اسلام کو چھوڑ چکی ہیں، اور انھیں ڈر ہے کہ اگر انھیں زبردستی سعودی عرب واپس بھیج دیا جاتا ہے اور ان کی کا خاندان انھیں قتل کر دے گا ۔ ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطیٰ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل پیج نے ایک بیان میں ہے کہ ‘اپنے خاندان کو چھوڑنے والی سعودی خواتین کو ان کی مرضی کے بغیر واپس بھجوایا گیا تو وہ اپنے رشتے داروں کی جانب سے شدید تشدد، آزادی سے محرومی اور دیگر شدید نوعیت کے نقصان کا سامنا کر سکتی ہیں۔’رھف کی کہانی اس وقت منظر عام پرآئی جب انہوں نے ٹوئٹر پر آنے کا فیصلہ کیا ۔۔

اور اپنی تصویر اور نام شائع کرتے ہوئے لکھا کہ ’میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں اور اب میں اپنا اصل نام اور تمام معلومات عام کر رہی ہوں‘۔ اسی دوران ٹوئٹر پر ’سیو رھف‘( #saverahaf) کے نام سے ایک ٹرینڈ بھی شروع ہو گیا جس میں دنیا بھر سے لوگ رھف کی مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ بنکاک میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ نے بتایا کہ رھف خوف زدہ اور کنفیوژ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے پاس آسٹریلیا کا ویزہ ہے لیکن ان کا پاسپورٹ سعودی سفارتی اہلکار نے ضبط کر لیا ہے جو انہیں بنکاک کے سورنابھومی ایئر پورٹ پر جہاز سے اترتے ہوئے ملے تھے۔ رھف نے کہا کہ ’میں نے اپنی معلومات اور تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کی ہیں اور میرے والد اس وجہ سے بہت غصے میں ہیں۔۔۔

میں اپنے ملک میں کام نہیں کر سکتی، پڑھ نہیں سکتی، اس لیے میں آزادی چاہتی ہوں اور اپنی مرضی سے پڑھنا اور کام کرنا چاہتی ہوں۔‘ تھائی پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ رھف محمد القنون شادی سے بھاگ رہی ہیں اور ویزہ نہ ہونے کی وجہ سے تھائی لینڈ کی پولیس نے انہیں انٹری کی اجازت نہیں دی اور ہم انہیں اسی ایئر لائن یعنی کویت ایئر لاینز کے ذریعے واپس بھیج رہے تھے جس سے وہ آئی تھیں۔‘ یاد رہے کہ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رھفف نے بتایا کہ انہیں ڈر ہے کہ ان کے خاندان والے انہیں مار دیں گے۔ کیوں کہ وہ اسلام چھوڑ چکی ہیں۔