بھارتی یونین منسٹر ہرسمرت کور نے وزیراعظم عمران خان سے شاہ محمود قریشی کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کردیا

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کرتار پور راہداری کا افتتاح 28 نومبر کو کیا گیا تھا جس میں بھارت کے دو یونین منسٹربھی شرکت کیلئے آئے تھے جبکہ بھارتی پنجاب کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو بھی شریک ہوئے ، نوجوت اپنی محبت اور خوش اخلاقی کے باعث پاکستانیوں کے دل میں ویسے ہی گھر کر چکے ہیں ۔ پاکستان میں جذباتی تقریر کرنے کے بعد بھارتی یونین وزیر ہرسمرت کور نے پہلے تو بھارت پہنچ کر فوری طور پر نوجوت سنگھ سدھو کیخلاف محاذ کھولا اور خوب طعنے کستے ہوئے تنقید کے تیر چلائے تاہم اب وہ اپنی روایات کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے سیدھے بیان کو بھی الٹا لے کر نیا پراپیگنڈہ شروع کر رہی ہیں ۔

اس صورتحال پر یہاں یہ مثال دی جا سکتی ہے کہ ” چور چوری سے تو جاتا ہے لیکن ہیرا پھیری سے نہیں “ ۔ تاہم دوسری جانب شاہ محمود قریشی کے اس بیان کی وضاحت آج وزیراعظم نے جاری کر دی ہے ۔ ہرسمرت کور باد ل کو اور کچھ نہ ملا تو انہوں نے شاہ محمود قریشی کے بیان میں رد وبد ل کرتے ہوئے اپنی مرضی کے الفاظ جوڑنے اور انہیں پھیلانا شروع کر دیا ہے ۔ انہوں نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر سے بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کو دکھا دیا ہے ۔

ہرسمرت کور بادل نے کہا ہے کہ کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں بھارتی وزراء امن کے قیام کیلئے کی جانے والی کوشش کے تحت شریک ہوئے جسے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انڈیا کو پھنسانے کیلئے گوگلی قرار دیا اس پر میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کرتی ہوں کہ سکھ برادری کے جذبا ت کو ٹھیس پہنچانے پر وزیر خارجہ کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں ۔ اس سے زیادہ ناگوار کوئی اور چیز نہیں ہو سکتی ۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی مذہبی جذبات کے ساتھ کھیلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ، امن کے قیام کے وعدے کھوکھلے نہیں ہونے چاہیے ، اس لیے آپ شاہ محمود قریشی کیخلاف کارروائی عمل میں لائیں تاکہ جس طرح سکھ برادری کے جذبات مجروح ہوئے ہیں انہیں راحت نصیب ہو سکے ۔

ابھی کچھ ہی دیر قبل حامد میر کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں انہوں نے عمران خان کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا احوال بیان کیا ۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کرتار پور راہدری پر وزیر خارجہ کے گوگلی کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ فیصلہ ان کی گوگلی نہیں تھی بلکہ سیدھا سادھا فیصلہ تھا ، شاہ محمود کا مطلب تھا کہ بھارت میں الیکشن آرہے ہیں ، وہ پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کررہا ہے لیکن ہم نے نفرت پھیلانےکا منصوبہ روکنے کے لیے کرتارپور کوریڈور کھولا ہے لہٰذا نفرت پھیلانے کا منصوبہ ناکام بنانے کو گوگلی کہہ سکتے ہیں لیکن اس کا قطعاً یہ مقصد نہیں کہ ہم نے دھوکا یا ڈبل گیم کیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں