جہیز کا مطالبہ اور گھریلو تشدد ، بھارتی دُلہنوں میں خود کشی کے رحجان میں ہوشربا اضافہ

دنیا بھر میں جتنی خواتین ہر سال خودکشی کرتی ہیں ان میں سے لگ بھگ 40 فیصد بھارتی خواتین ہوتی ہیں جہاں 15 سے 29 سال کی لڑکیوں ، بالخصوص دلہنوں میں خود کشی کے رجحان میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے ۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق طبی جریدے ’دی لینسیٹ‘ کے ماہرین نے اس معاملے پر اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ بھارت میں خود کشی کرنے والی 71 فیصد خواتین کی عمر 40 سال سے کم ہوتی ہے ۔ بھارت میں جس عمر کی خواتین سب سے زیادہ خود کشی کر رہی ہیں وہ 15 سے 29 سال ہے ۔

ماہرین نے بھارتی خواتین میں خود کشی کرنے کی شرح میں ہوشربا اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ”لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کا مطالبہ دلہنوں کی خود کشیوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ اس کے علاوہ کم عمری میں شادی اور تھوڑی عمر میں ماں بن جانا ، سماج میں مردوں سے کمتر تصور کیا جانا اور گھریلو تشدد وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے زیادہ تر بھارتی خواتین خودکشی کی طرف راغب ہوتی ہیں ۔

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ اور ماہر نفسیات ڈاکٹر منجولا او کونر کا کہنا تھا کہ ”باقی دنیا میں خواتین شادی کے بعد خود کو محفوظ سمجھنے لگتی ہیں لیکن بھارت میں اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے ۔ وہاں خواتین شادی کے بعد خود کو غیرمحفوظ سمجھتی ہیں ۔ جہیز ایک ایسی چیز ہے جس سے مغربی ممالک میں رہنے والی بھارتی لڑکیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں اور ان میں بھی اکثر جہیز کی وجہ سے خودکشی کرنے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں