ایرانی خاتون صحافی کو حکومت اور عدلیہ کے خلاف بولنا مہنگا پڑ گیا ، 13 سال قید کی سزا مل گئی

ایران میں خواتین حقوق کی علمبردار اور حکومت پر کڑی تنقید کرنے والی خاتون صحافی ہنگامہ شہیدی کوسیکیورٹی کے الزامات اور عدلیہ کی توہین پر 12 سال اور 9 ماہ قید کی سزا سنائی دی گئی ہے ۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کی معروف خاتون صحافی ہنگامہ شہیدی کو مقامی عدالت نے ایرانی نظام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے ، غیر قانونی اجتماعات ، قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے ، عدلیہ اور سرکاری حکام کے خلاف مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ’’ توہین آمیز ‘‘ مواد شیئر کرنے کے الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے 12 سال 9 ماہ کی سزائے قید سنا دی ہے ۔

عدالت نے سزائے قید کے علاوہ ہنگامہ شہیدی کے کسی بھی سیاسی گروپ میں شمولیت اختیار کرنے ، آن لائن یا میڈیا سرگرمی اور ملک سے باہر جانے پر بھی پابندی عاید کردی ہے ۔ واضح رہے کہ 2009 کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے نام پر ہونے والے مظاہروں میں شرکت کے الزام میں بھی ہنگامہ شہیدی کو 3 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔انھیں 2017ء میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا اور کئی ماہ تک غیرملکی میڈیا گروپوں کے لیے کام کرنے کے الزام میں زیر حراست رکھا گیا تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں