ڈونلڈ ٹرمپ کو لگی آگ بجھ نہ سکی ، ایک ہی دن میں دوسری بار پاکستان پر لفظی گولہ باری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ہرزہ سرائیوں سے باز نہ آئے اور ایک دن میں دوسری مرتبہ پاکستان مخالف بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیسے لینے کے باوجود ہمارے لیے کام نہیں کرتا جس کی واضح مثال اسامہ بن لادن کیس ہے جبکہ افغانستان ایک اور مثال بن رہا ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنی نئی ٹویٹس میں پاکستان پر اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کا بے بنیاد الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اربوں ڈالرز لینے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کو اسامہ کی موجودگی کا نہیں بتایا ۔ اسامہ بن لادن کو پہلے ہی پکڑا جانا چاہیے تھا ۔ میں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے سے پہلے اپنی کتاب میں اسامہ بن لادن کا ذکر بھی کیا تھا ۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا اب پاکستان کو مزید اربوں ڈالر نہیں دیں گے کیونکہ پاکستان نے ہم نے رقم لے کر بدلے میں کچھ نہیں کیا، اسامہ بن لادن اس کی بڑی مثال ہے جبکہ افغانستان ایک اور مثال بن رہا ہے ۔ پاکستان ان کئی ممالک میں سے ایک ہے جس نے امریکہ سے لیا مگر بدلے میں کچھ نہیں دیا ۔ ہم نے پاکستان کو اربوں ڈالر دئیے مگر اس نے اسامہ بن لادن کی موجودگی سے متعلق ہمیں نہیں بتایا ۔ واضح رہے کہ انہوں نے اس سے قبل آج ہی پاکستان مخالف بیان جاری کرتے ہوئے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں یکسر نظر انداز کر دیں اور کہا کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کو پناہ دی ، پاکستانی حکام اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں جانتے تھے ۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہم پاکستان کو سالانہ 1.3 ارب ڈالر دیتے رہے لیکن پاکستان ہمارے لئے کچھ نہیں کررہا تھا ، اس لئے امداد بند کردی ۔

ٹرمپ نے پاکستان کے امداد معطل کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تم جانتے ہوکہ وہ پاکستان میں رہ رہا تھا اور پاکستانی حکام اس کی موجود گی سے بخوبی آگاہ تھے ۔ ٹرمپ نے یہ بات القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور ایبٹ آباد میں ان کے کمپاﺅنڈ کی موجودگی کا حوالے دیتے ہوئے کی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ٹرمپ کی ہرزہ سرائی کے جواب میں امریکی صدر کو آئینہ دکھایا اور اپنے جواب میں کہا کہ ”مسٹر ٹرمپ کی تقریر کے بعد ریکارڈ درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ سب سے پہلے تو کوئی پاکستانی نائن الیون میں ملوث نہیں تھا لیکن پاکستان نے امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا ۔ دوسری بات ، دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان نے 75 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں جبکہ اسے 123 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ، اس کے مقابلے میں امریکی امداد انتہائی معمولی یعنی صرف 20 ارب ڈالر تھی “ ۔