مسجد الحرام سمیت مکہ شریف میں شدید بارشیں، حرم شریف سمیت متعدد علاقے زیر آب آ گئے

مکہ المکرمہ (اردو نیوز) مکہ المکرمہ میں شدید طوفانی بارشوں کے نتیجے میں مسجد الحرام سمیت متعدد علاقے زیر آب آگئے۔تفصیلات کے مطابق مکہ المکرمہ جغرافیائی اعتبار سے ایسے علاقوں میں واقع ہے جہاں بسا اوقات شدید بارشیں بھی ہوتی ہے جس کے باعث مسجد الحرم میں پانی بھر جاتا ہے۔اسکی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ حرم کے ارد گرد واقعہ بلند علاقوں سے بھی پانی بہہ کر نشیب کی جانب آ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان بارشوں کے باعث شہر مقدس کو سیلابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مسجد الحرام پانی سے بھر جاتی ہے۔

اسی قسم کی بارشوں کا آج بھی مکہ المکرمہ میں زور رہا ۔مکہ مکرمہ اور گردو نواح میں موسلا دھار بارش کے باعث حرم شریف سمیت نشیبی علاقے زیر آب آگئے ، عرب میڈیا کے مطابق پانی کے نکاس کے لیے عملہ متحرک ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ جدید سہولیات میسر ہونے سے پہلے مسجد الحرام میں اس قدر پانی جمع ہوجاتا تھا کہ زئرین تیر کر طواف کی سعادت حاصل کرتے ۔

یمنی شہری علی ایسے شخص ہیں جنہوں نے 77 سال قبل تیر کر کعبہ کا طواف کیا اور اس دوران کیمرے کی آنکھ نے یہ منظر محفوظ کرلیا۔ یمنی شخص علی الاوادی نے 1941 میں تیر کر کعبہ کا طواف کیا۔یمن سے تعلق رکھنے والے علی الاوادہی 2015 میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے تاہم اپنی زندگی میں وہ اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتاتے تھے کہ وہ اپنی نوجوانی کے عالم میں کعبہ پہنچے تو دیکھا کہ کعبہ سیلاب کی وجہ سے پانی میں گھرا ہوا ہے اور پانی اس قدر زیادہ ہے کہ چل کر طواف کرنا ممکن نہیں ہے۔

علی کہتے ہے کہ اس دوران میں نے تیر کر کعبے کا طواف کرنے کی ٹھانی اور اپنے دوستوں کو کہا کہ وہ میرے طواف کے چکر گنیں۔اس دوران کیمرے کی آنکھ نے یہ منظر محفوظ کرلیا۔اس تصویر میں علی کو تیر کر طواف کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ انکا بھائی اور دوست کعبے کے دروازے پر بیٹھے ہیں۔

تاریخ کے اوراق یہ بتاتے ہیں کہ کعبہ کی معلوم شدہ تاریخ میں صرف دو لوگوں کو یہ سعادت حاصل ہوئی ہے کہ انہوں نے تیر کر طواف کعبہ کی سعادت حاصل کی ہو۔ان میں سے پہلے شخص صحابی رسول عبداللہ الزبیرؓ ہیں جبکہ دوسرے شخص 77 سال قبل یہ سعادت حاصل کرنے والے یمنی شہری علی ہیں۔