جمال خاشقجی کو کب اور کیسے قتل کیا گیا، اصل اور خوفناک حقائق سامنے آگئے

ریاض (اُردو نیوز) ایک سعودی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ پندرہ رُکنی سعودی ٹیم کو اس غرض سے بھیجا گیا تھا کہ وہ جمال خاشقجی کو سمجھا بُجھا کر اپنے ساتھ واپس سعودی عرب لانے کے لیے راضی کرے گی۔ کیونکہ مملکت کا منصوبہ ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کو وطن واپس لایا جائے۔ تاہم وہ اس مذاکراتی ٹیم کی غلطی سے زندگی سے محروم ہو گئے۔

خاشقجی ایک برس قبل واشنگٹن منتقل ہو گئے تھے۔ سعودی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ احمد عسیری نے پندرہ افراد پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی۔ جس نے سعودی قونصلیٹ میں خاشقجی سے ملاقات کر کے اُنہیں وطن واپس آنے پر قائل کرنا تھا۔پروگرام یہ تھا کہ اگر خاشقجی وطن واپسی پر رضا مند نہ ہوئے تو سعودی ٹیم اُنہیں استنبول سے باہر کسی محفوظ مقام پر کچھ عرصہ کے لیے نگرانی میں رکھے گی۔

اگر وہ اس عرصے کے دوران بھی آمادہ نہ ہوتے تو اُنہیں رہا کر دینا تھا۔ سعودی عہدے دار احمد مطرب نے خاشقجی سے ملاقات کے دوران اُنہیں سمجھانا چاہا اور پھر اُنہیں دھمکی دی کہ اگر انہوں نے مذاکراتی ٹیم کی بات نہ مانی تو اُنہیں بے ہوش کر کے اغوا کر لیا جائے گا۔ اس پر خاشقجی نے چیخنا چلانا شروع کر دیا اور قونصلیٹ سے باہر نکلنے کی کوشش کی۔

اسی دوران ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ اُن کی چیخ و پُکار سے حواس باختہ ہو کر ایک اہلکار نے اُنہیں چُپ کرانے کی کوشش کے دوران اُن کا گلہ دبایا جس کے باعث اُن کی موت واقع ہو گئی۔ اس اچانک واقعے پر سعودی ٹیم کے اہلکاروں نے گھبرا کر سعودی حکومت کو اصل حقیقت سے واقف نہیں کیا۔ خاشقجی کی میت کو ایک قالین میں لپیٹ کر ایک مقامی فرد کے حوالے کر دیا گیا۔

جبکہ ٹیم کا ایک اہلکار خاشقجی کا لباس پہن کر قونصلیٹ کے عقبی دروازے سے اس طرح نکلا کہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ خاشقجی قونصل خانے سے رخصت ہو چکے ہیں۔ سعودی عہدے دار کے مطابق مذاکراتی ٹیم نے بہت زیادہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور تشدد سے کام لیا۔ حالانکہ اس طرح کا کوئی منصوبہ طے نہیں پایا تھا۔