غیر ملکیوں نے بھی ڈیم فنڈ کیلئے عطیات دینے کا اعلان کردیا

اسلام آباد (اُردو نیوز) غیر ملکیوں نے بھی ڈیم فنڈ کیلئے عطیات دینے کا اعلان کردیا، وزیراعظم کی جانب سے ڈیموں کی تعمیر اور زرمبادلہ ذخائر کی صورتحال بہتر کرنے کیلئے عطیات دینے کی اپیل پر غیر ملکیوں کی جانب سے مدد فراہم کرنے کی پیش کش۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پاکستان میں نئے ڈیموں کی تعمیر اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کیلئے عطیات دینے کی اپیل کیے جانے کے فوری بعد عطیات دیے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

وزیراعظم کی خصوصی اپیل کے بعد جہاں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے عطیات دینے کا سلسلہ شروع کردیا، وہیں کچھ غیر ملکیوں نے بھی حکومت پاکستان کی مدد کرنے کی پیش کش کی۔ جمعہ کے روز وزیراعظم عمران خان نے جب مختصر خطاب میں قوم سے ڈیموں کی تعمیر کیلئے عطیات دینے کی اپیل کی تو، اس کے فوری بعد تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر عطیات کے حصول کیلئے خصوصی پیغام جاری کر دیا۔

اس پیغام پر ایک بھارتی خاتون نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی تو نہیں ہیں، تاہم پھر بھی وہ ڈیموں کی تعمیر کے مقصد کو کامیاب بنانے کیلئے عمران خان کی حکومت کی مدد کرنے کیلئے تیار ہیں۔ بھارتی خاتون کو اس پیش کش کے بعد پاکستانیوں کی جانب سے بھرپور خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔

اس سے قبل جمعہ کے روز وزیراعظم عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد قوم سے اپنے دوسرے خطاب میں کہا کہ وعدہ کیا تھا تمام معاملات قوم کے سامنے لاؤں گا۔پچھلے دو ہفتے سے تمام شعبوں سے متعلق بریفنگ لے رہا ہوں۔ گیس، بجلی اور خارجہ پالیسی پربھی بریفنگ لے رہا ہوں۔

آج پاکستان کا قرضہ6 ہزار ارب سے بڑھ کر30 ہزار ارب تک پہنچ چکا ہے۔ 10سال پہلے پاکستان کا قرض 6 ہزار ارب تھا۔ گردشی قرضوں کا بھی بڑا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے۔ پہلے ہرپاکستانی کے پاس پانچ ہزار چھ سو کیوبک میٹرپانی تھا لیکن آج ہر پاکستانی کے پاس فی کس ایک ہزار کیوبک میٹرپانی رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس صرف 30 دن کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ملک کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ جس کیلئے ڈیمز بنانا بہت ضروری ہے۔ اگر آج ڈیمز نہ بنائے تو7سالوں یعنی 2025ء تک پاکستان میں خشک سالی شروع ہوجائے گی۔ ڈیم نہ بنائے تو اناج اگانے کیلئے بھی پانی نہیں ہوگا۔ جس سے قحط پڑ سکتا ہے۔جبکہ ڈیمز بنانے کیلئے ہمارے زرمبادلہ ذخائر میں کمی ہے۔

پاکستان کو اس وقت ڈالرز چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چیف جسٹس کوڈیمز بنانے پرخراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ میں نے چیف جسٹس سے بات کی ہے ان کے فنڈز کے ساتھ وزیراعظم فنڈ بھی اکٹھا کررہے ہیں۔ پوری دنیا میں جہاں بھی پاکستانی ہیں وہ ڈیمز بنانے کیلئے پیسا دیں۔ بیرون ملک پاکستانی جنہوں نے میری شوکت خانم بنانے میں مدد کی۔ ان سب سے درخواست کرتا ہوں کہ پیسے بھیجیں۔

وہ صرف ایک ہزار ڈالر بھیجیں توہمارے پاس ڈیمز بنانے اور قرضوں کیلئے بھی پیسے نہیں لینے پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈیمز بنانے میں دیر اس لیے لگتی ہے کہ پیسا نہیں ہے۔ نیلم جہلم پراجیکٹ میں بھی صرف پیسے نہ ہونے کے باعث دیر ہوئی۔انہوں نے کہا کہ میں آج سب سے اپیل کررہا ہوں۔ اوورسیز پاکستانیز کسی بھی ملک میں ہیں وہ جتنا پیسہ بھیج سکیں پاکستان بھیجیں۔

یورپ،، امریکا اور انگلینڈ میں جوپاکستانی ہیں وہ کم ازکم ایک ہزار ڈالر یا اس سے زیادہ پیسے بھیجیں ۔ جبکہ سعودی عرب ، یواے ای میں جولوگ ہیں وہ بھی پیسے بھیجیں۔ اوورسیزپاکستانی کردارا ادا کریں تو 5 سال میں ڈیم بن سکتا ہے۔ ڈیم بنانے کے لیے آج سے جہاد شروع کرنا ہے۔۔پاکستان اور دنیا بھر سے پاکستانی دل کھول کر فنڈز دیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں عوام کے پیسوں کی حفاظت کروں گا یہ پیسا صرف ڈیمزپرلگایا جائے گا۔ انہوں نے تحریک انصاف کے کارکنان سے بھی اپیل کی ہے کہ ڈیمز فنڈ کیلئے پیسا اکٹھا کریں۔