ترکی اور امریکہ کی لڑائی، طاقتور اسلامی ملک ترکی کے لیے میدان میں آ گیا، طیب اردگان پر ڈالروں کی بارش کر دی

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے ساتھ لڑائی اور پابندیوں کے باعث ترکی کی معیشت کو شدید دھچکا لگا اور اس کی کرنسی ’لیرا‘ کی قدر بہت زیادہ گر گئی تھی۔ اس مشکل وقت میں اب قطر میدان میں آ گیا ہے اور ترکی پر ڈالروں کی بارش کر دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق گزشتہ روز قطر کے امیر تمیم بن حماد الثانی نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے انقرہ میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں امیر تمیم نے اعلان کیا کہ وہ ترکی میں 15ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے تاکہ ترکی کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کو سنبھالا دیا جا سکے۔قطر یہ سرمایہ کاری ترکی کی مالی مارکیٹوں اور بینکوں میں کرے گا۔

ترکی اور قطر کے مابین تاریخی تعلقات قائم ہیں۔ جب سعودی عرب اور اس کی اتحادی عرب ریاستوں کی طرف سے قطر پر دہشت گردوں کی معاونت کا الزام، جس کی قطر تردید کر چکا ہے، عائد کرتے ہوئے تعلقات منقطع کیے گئے تو ترکی نے قطر کا ساتھ دیا تھا۔ صدر اردگان کے ترجمان ابراہیم کلین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا ہے کہ ”قطر کی طرف سے ہماری معیشت میں 15ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہمارے باہمی مثالی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ ترکی کی معیشت تیزی سے بہتر ہو رہی ہے اور ہم اس مشکل سے پہلے سے زیادہ مضبوط کر نکلیں گے۔“

رپورٹ کے مطابق رواں سال ترک کرنسی لیرا کی قدر میں 40فیصد تک کمی واقع ہوئی۔صدر رجب طیب اردگان نے افراط زر کی بہت زیادہ شرح ہونے کے باوجود ملک میں کئی بار شرح سود میں کمی کی، جسے لیرا کی قدر میں کمی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم صورتحال اس وقت زیادہ خراب ہوئی جب ترکی کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوئے اور اس نے ترکی کی بعض برآمدی مصنوعات کے ٹیرف میں اضافہ کر دیا، جن میں ایلومینیم اور سٹیل کی مصنوعات قابل ذکر ہیں۔اس کے جواب میں ترکی بھی کئی امریکی مصنوعات پر اضافی ٹیرف لاگو کر چکا ہے۔