جسٹن ٹروڈو کے ساتھ بھارت میں کیا سلوک کیا گیا؟ کینیڈین وزیر اعظم نے وطن واپس جاکر بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا

کینیڈا (ویب ڈیسک) کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اپنے بھارت کے سات روزہ دورے کو بھول نہیں پائے۔کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو فروری 2018 ء میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بھارت کے دورہ پر گئے تھے۔کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو تجارتی معاہدوں کی آس لیے بھارت گئے تھے۔جب جسٹن ٹروڈو بھارت گئے توان کا استقبال بھارتی وزیر زراعت نے کیا۔تو جسٹن ٹروڈو کے سارے خواب بکھر گئے۔جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر زراعت کا رویہ مسخرے جیسا تھا۔۔بھارتی وزیر زراعت نے نہ تو مجھے گلے لگایا نہ مصافحہ کیا بلکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا رہا،کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ایک تقریب میں جب سب کے ساتھ اپنے بھارتی دورے کی تفصیلات شئیر کیں تو حاضرین کے قہقے لگ گئے۔کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنے بھارتی دورے کا خوب مذاق اڑایا اور حاضرین کے قہقے لگوا دئیے۔

جسٹن ٹروڈو نے مضحکہ خیز انداز میں کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے ہم بھارت نہیں گئے۔مجھے اپنا بھارتی دورہ بلکل بھی یاد نہیں ہے۔میں سوچتا ہوں کہ کیا ہم واقعی کبھی بھارت گئے تھے۔جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ میں بہت امیدیں لے کر بھارت گیا تھا۔جب ہم بھارت پہنچے تو ہمیں زراعت کے وزیر نے خوش آمدید کہا۔جسٹن ٹروڈو نے بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان کے ساتھ ملاقات کا بھی ذکر کیا۔جسٹن ٹروڈو نے اپنے بھارتی دورے سے متعلق کچھ تصاویر بھی سب کو دکھائی۔یاد رہے کہ جسٹن ٹروڈو جب بھارت گئے تھے تو انہوں نے وہاں مشرقی لباس بھی پہنا تھا،جسٹن ٹروڈو کی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔

جنھیں سوشل میڈیاصارفین نے خوب پسند کی ۔تا ہم یہ حقیقت اب اشکار ہوئی کہ جسٹن ٹروڈو کا یہ بھارتی دورہ تلخ یادوں پر مشتمل تھا۔ واضح رہے کہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سات روزہ سرکاری دورے پر بھارت میں تھے۔ نریندر مودی کی حکومت انہیں وہ اہمیت نہیں دے رہی جتنی دی جانی چاہئے تھی۔ میڈیا نے وزیراعظم سے ایسے سلوک پر ہنگامہ اٹھا دیا۔ بھارت کے سات روزہ سرکاری دورے پر کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو ہفتے کی رات جب دہلی پہنچے تو مودی جی یا کسی سینئر وزیر کے بجائے استقبال کرنے کے لئے ہوائی اڈے پر ایک جونیئر وزیر موجود تھے۔

اور ان تین دنوں میں ٹروڈو اپنے بیوی بچوں سمیت آگرہ کے تاج محل اور گجرات کے شہر آحمد اباد کے گاندھی آشرم کی سیر ہی کی ہے۔ بھارتی میڈیا نے اس سوتیلے بچوں جیسے سلوک کا نوٹس لے لیا اور سوال اٹھایا کہ اب تک کسی سینئر وفاقی وزیر یا عہدیدار نے ان سے کیوں ملاقات نہیں کی اور تجزیہ کاروں نے خود ہی اس کی وجہ بھی بیان کر دی۔ ہو سکتا ہے اس کی وجہ جسٹن ٹروڈو کی کابینہ میں شامل وہ چار سکھ وزراء ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی ہمدردی خالصتان کی تحریک آزادی کے ساتھ رہی ہے۔