ایک این جی او کی جانب سے دئیے گئے کریڈٹ کارڈ پر ذاتی استعمال کی شاپنگ کرنے پر ماریشیس کی خاتون صدر کو عہدہ چھوڑنا پڑ گیا

ہمارے ہاں کرپشن ، کرپشن کا شور تو ہر وقت بلند ہوتا رہتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کے اربوں لوٹنے والے نا کبھی خود اقتدار چھوڑنے پر تیار ہوتے ہیں اور نا ہی عوام اپنے ووٹ کے ذریعے ان کے احتساب میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں ۔ دوسری جانب موریشیس جیسے چھوٹے سے ملک کا منظر دیکھئے کہ ایک این جی او کی جانب سے دئیے گئے کریڈٹ کارڈ سے ذاتی استعمال کی کچھ اشیاء خریدنے کے الزامات پر ملک کی خاتون صدر اپنے عہدے سے الگ ہو رہی ہیں ۔

مقامی میڈیا کے مطابق صدر امینہ گریب فاکم کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے وہ اپنا عہدہ چھوڑ رہی ہیں کیونکہ ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ایک انٹرنیشنل این جی او کی جانب سے دئیےگئے کریڈٹ کارڈ سے اپنے لئے ملبوسات اور جیولری خریدی ہے ۔ موریشیس کے وزیراعظم پراوند جگنات نے میڈیا کو بتایا کہ صدر صاحبہ 12 مارچ کو ملک کی 50 ویں سالگرہ کی تقریبات کے بعد اپنے عہدے سے الگ ہوجائیں گی۔ خاتون صدر کی تعیناتی 2015ء میں کی گئی تھی اور وہ اپنے ملک کی پہلی خاتون صدر ہیں ۔ ان کا موقف ہے کہ انہوں نے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی تاہم الزامات کے بعد وہ مناسب سمجھتی ہیں کہ اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں ۔

ایک مقامی اخبار نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ صدر نے غیر ملکی دورے کے دوران ’پلینٹ ارتھ انسٹی ٹیوٹ‘ نامی این جی او کی جانب سے جاری کئے گئے کریڈٹ کارڈ کے ذریعے اٹلی اور دبئی میں شاپنگ کی تھی ۔ اخبار کے مطابق انہیں یہ کارڈ ایک ڈاکٹریٹ پروگرام کی پروموشن کے سلسلے میں دیا گیا تھا ۔ یہ ڈاکٹریٹ پروگرام صدر امینہ گریب ، جو کہ کیمسٹری کی پروفیسر بھی ہیں ، کے نام پر شروع کیا گیا تھا ۔ اس سے قبل وہ اسی انسٹیٹیوٹ کے لئے تنخواہ کے بعد ڈائریکٹر کے طور پر کام کر چکی ہیں۔