کم سن لڑکیوں کی منڈی ، بوڑھے عرب شیخوں کی لائنیں لگ گئیں, وہ علاقہ جہاں چند ہزار روپے میں لڑکی خریدی جا سکتی ہے

مسلمانوں کے اکثریتی بھارتی شہر حیدرآباد میں گھناونا کاروبار ، بوڑھے عرب باشندوں سے کم سن مسلمان لڑکیوں کی شادیاں، بوڑھا عرب شیخ 80 ہزار روپے والدین کو لڑکی کے عوض ادا کرتا ہے، پولیس کا مخبر بن جانیوالے بروکر کے سنسنی خیز انکشافات۔ بھارتی اخبار انڈیا ٹائمز کی ایک رپورٹ میں حاجی خان نامی بروکر کے سنسنی خیز انکشافات پرمبنی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بوڑے عرب شیخ عیاشی کیلئے بھارت کے شہر حیدر آباد کا رخ کرتے ہیں جہاں وہ کم سن لڑکیوں سے شادیاں رچاتے ہیں اور بھارت سے جانے سے پہلے اپنی دلہن کو طلاق دے دیتے ہیں۔

حاجی خان جو کہ اب پولیس کا مخبر بن چکا ہے نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عرب باشندے بھارتی لڑکیوں سے دو طرح کی شادی کرتے ہیں ایک عارضی اور ایک مستقل مگر ان میں زیادہ تر عارضی ہی ہوتی ہیں۔ یہ عرب باشندے اپنے ساتھ استعمال شدہ عروسی لباس، صابن اور رات کو پہننے والے کپڑے لے کر آتے اور ان میں سے زیادہ تر ٹائم پاس شادیاں ہی کرتے ہیں اور شادی کے وقت ہی بعد کی کسی مقررہ تاریخ کے طلاق نامے پر بھی دستخط کر دیتے ہیں۔ جب وہ لوگ بھارت چھوڑ کر چلے جاتے، تب ہم یہ طلاق نامہ ان لڑکیوں کو دے دیتے ہیں۔

یہ تمام شادیاں مسلمان نکاح خواں اور قاضی کرواتے ہیں جو بوقت ضرورت پیسوں کے عوض لڑکیوں کی عمر بھی زیادہ لکھ دیتے ہیں کیونکہ اکثر لڑکیاں کم سن ہوتی ہیں اور ابھی شادی کی قانونی عمر کو نہیں پہنچی ہوتیں۔ ان لڑکیوں میں سے اکثر کو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ شادی کے 15 سے 20 دن بعد انہیں طلاق ہو جائے گی۔ مستقل شادی میں عرب شہری دلہن کو اپنے ساتھ لے جاتےہیں۔ حاجی خان کے مطابق عرب شہری کے رابطہ کرنے پر بنکاک کے قحبہ خانوں کی طرح ہوٹل میں 20 سے 30 لڑکیاں قطار میں کھڑی کر دی جاتی تھیں اور وہ ان قطار میں کھڑی لڑکیوں میں سے کسی کو بھی منتخب کرلیتا تھا۔ جبکہ باقی لڑکیوں کو منہ دکھائی کے طور پر معمولی رقم دے کر واپس گھر بھیج دیا جاتا ہے۔