معروف سعودی بزنس مین نے سزائے موت کے دن کس طرح غیر ملکی شخص کو سزا سے بچا لیا؟ جان کر داد دینگے

سعودی عرب میں ایک بھارتی ورکر لمبدری نے کبھی خواب میں بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ وہ موت کے منھ میں جانے سے بچ سکے مگر وہ قتل کے جرم میں سر کٹوانے سے بچ گیا ہے حالانکہ وہ گذشتہ آٹھ سال سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے خلاف سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کا منتظر تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس نے ایک لڑائی جھگڑے کے دوران میں ایک سعودی کو قتل کر دیا تھا۔

عدالت نے اس کو سزائے موت کا حکم دیا تھا اور وہ اسی ادھیڑبن میں مبتلا تھا کہ اب اس کا سرقلم ہو کررہے گا۔لیکن سرقلم کیے جانے کی تاریخ نزدیک آنے پر اس قاتل کے لیے تو معجزہ رونما ہوگیا۔ایک سعودی کاروباری شخص عواض بن غریح الیامی اس کی مدد کو آگے آئے ہیں اور انھوں نے مقتول کے خاندان کو دیت ( خون بہا) کے بدلے میں اس کو معاف کرنے پر آمادہ کر لیا ہے۔مقتول کے خاندان نے ان کی جانب سے ادا کردہ دیت کی رقم قبول کر لی ہے اور اس بھارتی قاتل کو معاف کردیا ہے۔عدالت نے بھی اس معافی کی توثیق کردی ہے اور اب بھارتی ورکر جیل سے رہائی کا منتظر ہے۔ واضح رہے کہ وہ وقوعہ سے قبل نجران میں ایک فارم میں کام کرتا رہا تھا۔